اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودیہ کی مخالف ایک ویبسایٹ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں اقتصادی بحران کے بارے میں ملنے والی رپورٹوں کے باوجود سعودی عرب کے ولی عہد کے جانشین نے بادشاہی تک پہنچنے کی خاطر اس ملک کے لوگوں کے سرمائے اور پیسے کو امریکیوں پر لٹایا ہے ۔
ایک عرب خبر نگار رامی الخلیل نے ایک رپورٹ میں کہ جو سعودیوں کی مخالف ویبسایٹ "نبا"پر منتشر ہوئی ہے ، مذکورہ بالا بات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے : اس بنا پر کہ انکل سام کی مرضی سلطنت کے تخت پر بیٹھنے کے لیے تمام سعودی شہزادوں کا پہلا قدم ہے ، واشنگٹن کو پیسے دیے جانے کی بات قطعی معلوم ہوتی ہے ، قانون جاستا کے سائے میں کہ جو دہشت گردی کے حامیوں کے مقابلے میں قانون عدالت ہے ، ریاض کے سر پر لٹکتی شمشیر ہے کہ جو یمن کی خونی دلدل میں پھنسا ہوا ہے ۔ آل سعود کے پاس امریکہ کی حکومت کو ۵۶ میلین ڈالر دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تاکہ امریکہ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ڈونالڈ ٹرامپ کے منصوبے کی تکمیل ہو سکے ۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر خلیج فارس میں ایک باخبر ذریعے نے ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سمجھوتے کی جزئیات کے بارے میں روزنامہ الخلیج الجدید کو بتایا کہ ریاض کے لیے اس قرار داد کی رقم جو تیل کی قیمت کے اتار چڑھاو کے شدید دباو میں ہے بہت بڑی ہے ، لیکن ملک سلمان اور اس کے بیٹے نے بھی اس کے بدلے میں بڑی چیز کا مطالبہ کیا ہے ۔
اس مبلغ کے مقابلے میں سعودی عرب کے تین مطالبے ہیں :
۱ ۔ ریاض چاہتا ہے کہ واشنگٹن شاہ کے بیٹے محمد بن سلمان کو ملک کا آنے والا باشاہ مانے ، چونکہ اس وقت امریکہ کی سیاسی محافل میں سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد محمد بن نایف کو ملک کے آنے والے بادشاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، دوسری جانب سعودی حکومت کے خاندان کے اندر سلمان کے بیٹے کو زیادہ پسند نہیں کیا جا رہا ہے
۲ ۔ ریاض کا دوسرا مطالبہ امریکہ میں جو جاستا کا قانون ہے ، اس کے بدلے میں ریاض چاہتا ہے کہ امریکہ کو رشوت دے کر اس قانون کی وجہ سے سعودی عرب پر جو دباو پڑ رہا ہے اس میں کمی جائے ، اور اس قانون کو لغو کرنے کا راستہ بھی بتدریج ہموار کیا جائے ۔
۳ ۔ ریاض یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکہ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی فوجی اور سیاسی حمایت میں اضافہ کرے خاص کر ایسے میں کہ جب امریکہ کی کانگریس میں سعودی عرب کو ہتھیار دینے پر پابندی لگانے کی بات ہو رہی ہے تا کہ یمن کے بے گناہ شہری نشانہ نہ بنیں ۔
اس رپورٹ کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مبلغ ۱۱۲ ارب ڈالر کہ جو ریاض نے ٹرامپ کی حکومت کو اس کی حکومت کے آغاز میں دیے تھے ، وہ ختم ہو چکے ہیں اور اب ریاض سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آقائ امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے مزید ڈالر خرچ کرے ۔ ٹرامپ نے جو وعدہ کیا ہے کہ وہ ایک ٹریلین ڈالر امریکہ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع پر خرچ کرے گا ، وہ چاہتا ہے کہ اس کی قیمت ریاض ادا کرے ۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ ابھی تک ریاض کی دی ہوئی اس رقم پر راضی نہیں ہوا ہے اور کہتا ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے ۔ اس لیے کہ ہم سعودی عرب کے دفاع پر بہت بڑی رقم خرچ کر رہے ہیں ۔
امریکہ کے صدر کی سعودی عرب پر نئی تنقید اس کی سعودی عرب کے ولی عہد کے جانشین محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کے ایک ماہ بعد کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲