اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر؛ نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی کے اطراف و اکناف میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیااس سلسلے میں قدیمی امام باگاہ حسن آباد سرینگر میں پروقار جشن میلاد امام حسینؑ منعقد ہوا جس میں شاخہاے باب العلم ،حوزہ علمیہ میر گنڈ اور مکتب الزہراؑکے طلبہ و طالبات کے علاوہ عقیدت مندوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جن علمائے دین نے سیرت امام حسینؑ کے مختلف گوشوں پر اظہار خیال کیا ان میں حجة الاسلام آغا سید یوسف الموسوی ، حجة اسلام آغا سید عقیل الموسوی، حجة الاسلام سید عابد حسین الحسینی اورحجة الاسلام سید محمد حسین شامل ہیں جبکہ نظامت کے فرائض مولوی نثار حسین والو نے انجام دیے۔
انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے سیدنا حضرت امام حسین ؑ کی سیرت طیبہ اور کردار و عمل پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقام کی ذات قدسیہ سے حضور سرور کائنات کی بے پناہ محبت اس اسلام پرور اور ظلم و باطل شکن کردار و عمل کی عظمت و اہمیت کا آیئنہ دار ہے جسکا فقید المثال مظاہرہ امام عالی مقام نے تاریخ کے اس حساس اور مخدوش موڑ پر کیا جب ملوکیت نے خلافت اسلامیہ کا لباس اوڑھ کر دین اسلام کو فنا و بقا کے دو راہے پر لا کھڑا کیا تھا انھوں نے کہا کہ اپنے کردار و عمل کے تناظر میں امام حسینؑ کی ذات گرامی ظلم و باطل کے خلاف مظلومین عالم کی مزاحمت و استقامت کا سر چشمہ ہے امام عالی مقام نے اپنے کردار و عمل سے دنیائے انسانیت کو فتح و شکست اور ذلت و عزت کے حقیقی معنی و مفاہیم سے روشناس کرایا ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیع دیکر امام عالی مقام نے دنیاے بشریت کو ضمیر کی آزادی اور اصولوں کی بالادستی کا وہ آفاقی پیغام پہنچایا جو رہتی دنیا تک احرار و حق پرستوں کی عزیمت کا طرہ امتیاز ہے۔
اس موقعہ پر آغا صاحب نے کشمیر کی صورت حال اور بھارتی ظلم و تسلط کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کے حوالے سے بھاجپا اور اسکے حلیف فرقہ پرست قوتوں کے لیڈران کی طرف سے اشتعال انگیز جارحانہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا انھوںنے کہا کہ پروین توگڑیا کا تازہ ترین بیان کشمیری حریت پسند عوام کی مزاحمت اور بھارت سے گلو خلاصی کی جدوجہد کے سامنے دلی کی بے بسی اور مایوسی کا برملا ثبوت ہے انھوں نے کہا کہ کشمیر میں شہری آبادیوں پر بمباری کا مشورہ دیکر فرقہ پرست لیڈران نہ صرف اپنی بدترین کشمیر دشمنی کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ اس حقیقت کی غمازی ہے کہ بھارت کس حد تک کشمیر سے مایوس ہو چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲