17 اپریل 2017 - 12:17
کشمیری طلاب کے ہاتھوں میں قلم، کمپیوٹر دیکھنے کی مودی کی خواہش کا اصل مفہوم: آغاحسن

آغا صاحب نے کہاکہ کشمیری طلاب کے خلاف فورسز کی جارحانہ مہم جوئی ریاستی دہشتگردی کا بدترین چہرہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر// سانحہ ڈگری کالج پلوامہ کے خلاف وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں طلبہ اور طالبات کے ہمہ گیر احتجاج کوسرکاری فورسز کی انسانیت سوز عزائم کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ حالیہ ذلت آمیز انتخابات کے بعد بھارت کشمیری قوم سے سیاسی انتقام گیری کے ایک نئی پالیسی پر گامزن نظر آرہا ہے۔ آغا صاحب نے کہاکہ کشمیری طلاب کے خلاف فورسز کی جارحانہ مہم جوئی ریاستی دہشتگردی کا بدترین چہرہ ہے۔ طلبہ اور طالبات پر سرکاری فورسز کے جبر و بربریت کے جو واقعات اور قیامت خیز مناظر گزشتہ چند روز سے چشم فلک نے دیکھے اُن سے روحِ انسانیت شرمسار ہے۔طلاب کے ہمہ گیراحتجاج اورانصاف خواہ آوازکو دبانے کیلئے طاقت کے بے دریغ استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ پلوامہ سانحہ میں ملوث فورسز اہلکاروں کو قرار واقعی کی سزا دینے کا کشمیری طلاب کا مطالبہ پورا کئے بغیر طلاب کا اطمینان بحال نہیں ہوسکتا۔ معصوم طلاب کے خلاف انتہائی سفاکانہ طرزعمل اختیار کرکے سرکاری فورسز نے ثابت کر دکھایا کہ کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم اور کمپوٹر دیکھنے کی مودی کی خواہش کے پس پردہ اصل نیت کیا ہے۔ آغا صاحب نے کہاکہ طالب علم طبقہ کسی بھی قوم کے مستقبل کا امین اور معمار ہوتا ہے۔ بھارت نے اپنی جبر و بربریت کا رُخ قوم کشمیر کے مستقبل کے معماروں کی طرف موڑ دیا۔ آزمائش کی اس گھڑی میں قوم اپنے مستقبل کے معماروں کی پُشت پر ہے۔ آغاصاحب نےاحتجاجی طلاب پر فورسز کی وحشیانہ کاروائیوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے طلاب کے ساتھ والہانہ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ و ہ کشمیر کے سلگتے حالات اور بھارت کی بدترین ریاستی دہشتگردی کا سنجیدہ نوٹس لے کر اس بے بس قوم کی نوجوان نسل کی نسل کشی کو روکنے میں اپناکردار اداکریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲