10 اپریل 2017 - 12:55
قاھرہ، چرچ میں ہوئے دھماکے سے 44 افراد جانبحق+ تصاویر

ایک دھماکہ قاہرہ کے شمال میں واقع نیل کے دوآبہ کے علاقے میں اور اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد الگزینڈریہ کے ایک اور چرچ میں دھماکے سے تاحال 44 افراد جان بحق ہو گئے ہیں، جبکہ داعش نے اِن حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کالعدم دہشتگرد جماعت داعش نے ایسے میں جب طنطا اور الگزینڈریہ میں قبطی مسیحی عبادت گزار 'پام سنڈے' کی مناسبت سے تہوار منانے میں مصروف تھے، مصر کے دو گرجا گھروں میں بم حملے کیے، جس کے نتیجے میں تاحال 44 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان دہشتگرد کارروائیوں کے بعد مصر کے صدر نے تین ماہ تک ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے حکام کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ بغیر وارنٹ کے کسی کے گھر کی تلاشی بھی لے سکیں گے۔

مصر میں دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی فرمانروا نے مصری صدر کو خط لکھ دیاہے جس میں ان کا کہناتھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے ۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، مارک سی ٹونر نے تانتا اور الیگزینڈریہ میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کے خلاف حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ''ہم ہلاک شدہ خاندانوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں، جب کہ تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں''۔

مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ مصر کی سلامتی اور استحکام کی حمایت جاری رکھے گا، تاکہ دہشت گردی کو شکست دینے کی کوششیں جاری رکھی جا سکیں''۔

واضح رہے کہ چند روز قبل جب مصری صدر امریکہ کے دورے پر گئے تھے تو ٹرمپ نے السیسی کی قیادت کو سراہتے ہوئے ہر قدم مصر کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے ملک میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اہم مقامات کی سیکورٹی فوج کے حوالے کردی ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲