10 اپریل 2017 - 12:47
اردن کے اہل سنت رکن پارلیمنٹ نے شیعوں کے حق میں چند سوال اٹھا کر تکفیریوں کو سیخ پا کر دیا

اردن کے اہلسنت رکن پارلیمنٹ طارق خوری نے اسلامی ممالک کے خراب حالات میں ملوث گروہوں اور عناصر کے بارے میں اپنے شیعہ بھائیوں کے دفاع کے حوالے سے چند سوالات اٹھائے ہیں جس سے شیعہ سنی کے مشترکہ دشمن وہابی اور تکفیری عناصر طیش میں آگئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  اردن کے رکن پارلیمنٹ طارق خوری نے اسلامی ممالک کے خراب حالات میں ملوث گروہوں اور عناصر کے بارے میں اپنے آرٹیکل میں چند سوالات اٹھائے ہیں جس سے اہلسنت اور اہل تشیع کے مشترکہ دشمن وہابی اور تکفیری عناصر طیش میں آگئے ہیں۔

خوری نے امت مسلمہ کی زبوں حالی کے بارے میں درج ذیل سوالات اٹھائے ہیں؛

فلسطین کے ساتھ خیانت کرنے والے کیا شیعہ ہیں؟

لیبیا کو کیا شیعوں نے نابود کرکے شہریوں کو خاک و خون میں نہلایا؟

کیا سعودی عرب، کویت اور عراق میں خود کو بموں سے اڑانے والے شیعہ ہیں؟

کیا مسجد اقصی کو آگ لگانے والے شیعہ ہیں؟

کیا صومالیہ کو شیعوں نے نابود کیا؟

کیا بغداد پر بمباری کرنے والے جہاز شیعہ ممالک کے ائیرپورٹ استعمال کرتے ہیں؟

کیا شیعہ صحرای سینا میں خودکش حملے کرتے ہیں؟

کیا القاعدہ، داعش اور النصرہ فرنٹ کو شیعوں نے بنایا ہے؟

کیوں خودکش حملوں سے صہیونی محفوظ اور مسلمان شکار نہیں ہورہے ہیں؟

کیا شدت پسند عالم قرضاوی شیعہ ہیں؟

کیا قرضاوی وہی شخص نہیں جس نے بہت سارے حرام کاموں کو حلال قرار دیا؟

صہیونی عناصر خوش قسمت ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ہتھیاروں کا رخ انہی کی طرف کردیا اور ھر روز غیر قانونی بستیاں تعمیر کرکے ھماری بے وقوفی پر ہنس رہے ہیں.

سعودی عرب، لیبیا اور تیونس کے شدت پسند اسلامی ممالک میں تو دھشت گردی کرتے ہیں لیکن فلسطین میں موجود صہیونی غاصبوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟

کیا حزب اللہ مانع بن رہی ہے؟

شیعہ ہونے کے باوجود پوری دنیائے اھل سنت شاہ ایران کی مخالفت کے بجائے کیوں اس کی اطاعت کرتی تھی؟

ایک طرف فلسطین کو آزاد کرنے میں ناکامی پر حزب اللہ کی مذمت کی جاتی ہے جو کہ چند افراد پر مشتمل ایک گروہ سے زیادہ کچھ نہیں؛ دوسری طرف عرب اور دوسرے اسلامی ممالک کے درمیان اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کے لئے دوڑ لگی ہوئی ہے۔

یہ میرا نظریہ ہے جو صرف اس وقت بدل سکتا ہے جب خلیجی ممالک کا کوئی شہری فلسطین میں جاکر شہادت طلبانہ کارروائی کرے۔

اس وقت اپنی غلطی کا اقرار کروں گا جب یہودی عبادت گاہوں پر القاعدہ اور داعش کا پرچم لہرائے؛

جب عرب ممالک اسرائیلی سفارت خانوں کو بند کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲