اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے بارے میں امریکی حکام کی تضاد بیانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ایک جانب امریکی وزیر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے تو دوسری جانب امریکی مندوب نے کہا ہے کہ بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانا ٹرمپ کی اولین ترجیح ہے۔
شام پر امریکہ کے میزائل حملے کے محض دور روز کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے سی بی ایس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شام میں امن و استحکام کے قیام سے زیادہ داعش کو نابود کرنا ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ داعش کی شکست کی صورت میں نہ صرف امریکہ کو درپیش خطرہ ختم ہوجائے گا بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام بھی بحال گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن شام کے بحران کے سیاسی راہ کے لیے جاری مذاکرات میں مدد دینے کے لیے بھی تیار ہے۔
وہ اس سے پہلے بھی اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ امریکہ کی اولین ترجیح ہے جبکہ صدر بشار اسد کے مستقبل کا فیصلہ خود شامی عوام ہی کریں گے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نیکی ہلی نے سی این این سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
ہلی نے کہا ہے کہ جب تک بشار اسد اقتدار میں موجود ہیں اس وقت تک بحران شام کے سیاسی راحل کا کوئی آپشن موجود نہیں۔
امریکی حکام کے بیانات میں یہ تضاد ایسے وقت میں دکھائی دے رہا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی کمپین کے دوران بارہا داعش کے خلاف جنگ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا۔
لیکن اب وہ مسند اقتدار پر براجمان ہیں اور سابق امریکی صدر کی طرح داعش کے خلاف جنگ کے بجائے خطے میں داعش کے خلاف برسر پیکار ملکوں سے جنگ کر رہے ہیں۔
امریکہ کی اس متضاد پالیسی کے جاری رہنے کی صورت میں مغربی ایشیا اور یورپی عوام پر داعش کا خونی سایہ ختم نہیں ہوگا چاہے امریکی وزیر خارجہ داعش کے خلاف جنگ کی ترجیح کا کتنا ہی راگ کیوں نہ الاپتے رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲