اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی حج وفد نے سعودی عرب کے وزیر حج کے ساتھ ہونے والی تازہ ترین ملاقات میں سانحہ منیٰ کے تحقیقاتی عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سعودی حکام سے آئندہ حج کے لئے ایرانی زائرین کے لئے انتظامات کی تفصیلات مانگ لیں.
ايران کے ادارہ حج و زيارات کي ويب سائيٹ کے مطابق، فروري ميں سعودي حکام کے ساتھ حج مذاکرات کي کاميابي کے بعد حاليہ دنوں ايران کا ايک وفد سعودي عرب بھيجا گيا ہے جس ميں زائرين کے لئے رہائشگاہ فراہم کرنے کي کميٹي اور شعبہ صحت کے نمائندے شامل تھے.
ايراني وفد کي قيادت ادارہ حج و زيارات کے نائب سربراہ 'حميد محمدي' کر رہے تھے اور انہوں نے سعودي وزير حج کے ساتھ اس ملاقات ميں ايراني زائرين کو سيکورٹي کي فراہمي اور عزت و وقار کے ساتھ حج کروانے پر گفتگو کي.
انہوں نے سانحہ منيٰ کے تحقيقاتي عمل کو تيز کرنے کا مطالبہ کيا اور اس کے علاوہ شہدائے منيٰ اور مسجدالحرام ميں کرين گرنے کے واقعے ميں شہيد ہونے والے ايراني حاجيوں کے لواحقين کو معاوضہ کي ادائيگي پر بھی زور دیا.
ياد رہے کہ ايراني سپريم ليڈر کے نمائندہ برائے امور حج و زيارات نے کہا ہے کہ اس سال 86 ہزار ايراني زائرين کو حج پر بيھجاجائے گا اور حج کے موقع پر زائرين کے لئے دعائے کميل کي روحاني محفل اور مشرکين کے خلاف يوم برائت کي تقريب بھي منعقد ہوں گي.
علامہ قاضي عسکر نے مزيد کہا کہ ايراني وفد نے سعودي وزير حج کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ميں واضح طور پر اپنے مطالبات پيش کئے اور ان مذاکرات کے اختتام پر حتمي مفاہمت طے پاگئي جس کے نتيجے ميں اس سال 86 ہزار ايراني شہري حج کے عظيم فريضے کا شرف حاصل کريں گے.
سنئير ايراني حج عہديدار کار نے بتايا کہ سعودي حکام کے ساتھ ايراني زائرين کو سيکورٹي کي مکمل فراہمي، طبي سہوليات، قونصلر خدمات تک رسائي اور ديگر موضوعات پر تفصيلي بات چيت کي گئي اور سعودي حکام نے ہمارے مطالبات مان ليے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲