3 اپریل 2017 - 11:15
سعودی اتحاد مضبوط بنانے کیلئے راحیل شریف کا آل سعود کو مشورہ

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے سعودی عرب کی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ عرب لیگ جیسے علاقائی فورم کے بجائے او آئی سی کو فعال کرنے کی طرف توجہ مبذول کی جائے جس کے پلیٹ فارم پر تمام اسلامی ملک موجود ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جنرل (ر) راحیل شریف نے آل سعود کو مشورہ دیا ہے کہ عرب لیگ جیسے علاقائی فورم کے بجائے او آئی سی کو فعال بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ممکنہ طور پر بنایا جانے والا سعودی اتحاد جس کے زیر اہتمام کم از کم پانچ لاکھ مکمل طور پر تربیت یافتہ فوجیوں پر مشتمل فوج کو فوری طور پر تیار کئے جانے کے لئے عسکری امور سرانجام دئیے جاسکیں۔

راحیل شریف کا موقف ہے کہ عرب لیگ کو اہمیت دینے سے پہلے بھی سعودی عرب کو اسلامی دنیا میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب بھی اگر سعودی حکومت اس فورم پر توجہ مبذول رکھتی ہے تو اس سے ایک بار پھر دہشتگردی سے لڑنے کے لئے تشکیل دیا جانے والا مذکورہ سعودی اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ او آئی سی میں سب اسلامی ممالک موجود ہیں اور اس تنظیم کو بین الاقوامی قبولیت بھی حاصل ہے اور اگر کسی ملک میں اس حوالے سے کارروائی کے لئے اگر کسی قانونی اقدام کی ضرورت پڑتی ہے تو عرب لیگ یہ قانونی تحفظ فراہم نہیں کرسکتی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جنرل (ر) راحیل شریف نے سعودی حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اسلامی ممالک میں اپنے سفارتی عملے کو بھی متحرک کیا جائے تاکہ اس اتحاد کے لئے ان ممالک میں موجود مخالفت کو کاﺅنٹر کیا جاسکے اور جو حلقے اس حوالے سے اپنے تحفظات رکھتے ہیں انہیں مطمئین کیا جاسکے۔

دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسلامی اتحاد کے لئے تربیت کا کالج خلیج عرب میں شروع کیا جاچکا ہے اور اس کا تربیت یافتہ پہلا دستہ اس برس کے آخر تک اپنی ٹریننگ مکمل کرلے گا۔

تربیت کے لئے منتخب افراد میں پہلی فوقیت سپیشل سروسز گروپس سے ریٹائرڈ سابق فوجیوں کو دی جائے گی جو کہ خطہ عرب کو ذہن میں رکھ کر تخلیق کئے گئے سپیشل گیئرز استعمال کریں گے اور یہ فوجی باقاعدہ فوج کی بجائے ٹارگٹڈ کارروائیاں اور آپریشن کریں گے جبکہ باقی ماندہ فوج کو فی الحال اتحاد میں شامل یا جنگ سے متاثرہ خلیج عرب کے ممالک میں حساس مقامات پر حفاظت کے لئے تعینات کیا جائے گا جن میں بالخصوص تیل کے کنویں جن پر قبضے کے لئے دہشتگرد گروپ داعش سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور اسی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں معدنی تیل کی غیر قانونی ترسیل بھی جاری ہے اور اسی رقم کو بعدازاں دہشتگردی میں استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ اہم فوجی تنصیبات جیسے کہ راکٹ لانچنگ سائٹس اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ممکنہ طور پر تشکیل دی جانے والے سعودی اتحاد میں بڑی تعداد میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی بھرتی کیا جائے گا جس کے لئے پہلی ترجیح سعودیہ میں موجود افراد کو دی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲