اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، شان اسپائسر نے کہا کہ واشنگٹن نے بشار اسد کو کنارے لگانے کے بہت سے مواقع گنوائے ہیں اب ہمارے پاس بشار اسد کو شام کا صدر تسلیم کرنے کے لیے علاوہ اور کوئی انتخاب نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ شام اور عراق میں دہشتگردی کا خاتمہ امریکی کی پہلی ترجیح ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شام اور عراق میں داعش کی نابودی یقینی ہونے کے بعد امریکہ کی اب پوری کوشش ہے کہ داعش کی نابودی کا سہرا اپنے سر باندھا جائے۔ ورنہ یہ وہی امریکہ ہے کہ جو چھ سالوں سے داعش کو ختم کرنے کے بہانے شام اور عراق میں پیر جمائے ہوئے ہے اور جب بھی داعش کے دہشتگردوں پر کوئی مشکل گھڑی آن پڑتی تھی تو امریکی طیارے آسمان سے ان پر اسلحے گراتے تھے۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمائندے نکی ہیل نے بھی جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ شام کے تعلق سے امریکہ کی سیاست میں واضح تبدیلی آئی ہے اور بشار اسد کو کنارے لگانا اب واشنگٹن کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔
سال 2011 سے شام میں امریکہ، سعودی عرب اور ان کے اتحادی ممالک کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے ذریعے بحرانی حالات پیدا کئے گئے تاکہ بشار اسد کو حکومت سے ہٹایا جائے مگر انہیں اس میں کامیابی نہیں ملی اور اب سعودی عرب کے علاوہ تقریباً سبھی ممالک نے تسلیم کرلیا ہے کہ بشار اسد کو حکومت سے معزول کرنا ممکن نہیں ہے۔
.......
/169