اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ خالد مسعود نومبر 2005 سے نومبر 2006 اور پھر اپریل 2008 سے اپریل 2009 تک سعودی عرب میں مقیم رہے اور اس دوران خالد مسعود مختلف تعلیمی اداروں انگریزی پڑھاتے رہے۔ خالد مسعود کے پاس ورک ویزا تھا، جو مارچ 2015 میں 6 دن کے لیے واپس آئے۔
سعودی عرب سفارت خانے لندن کے پریس ریلیز مطابق خالد مسعود سے سعودی عرب میں کھبی تفتیش نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کا وہاں کوئی مجرمانہ ریکارڈ رہا۔
یاد رہے کہ 23 مارچ کو خالد مسعود نامی حملہ آور نے لندن کے ویسٹ منسٹر پُل پر لوگوں کو گاڑی سے روندنے کے بعد پارلیمنٹ کے احاطے میں پولیس اہلکار پر چُھری سے حملہ کردیا تھا، جنھیں پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔
لندن پولیس کے مطابق 52 سالہ خالد مسعود لندن کے جنوب مشرقی علاقے کینٹ میں پیدا ہوئے اور وہ حالیہ دنوں وسطی انگلینڈ میں مقیم تھے۔
اسلام قبول کرنے سے قبل خالد مسعود ایڈرین المز (Adrian Elms) تھا۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ ’خالد مسعود کے خلاف کوئی تحقیقات جاری نہیں تھی اور نہ ان کے کسی حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق کوئی انٹیلی جنس موجود تھی۔‘
تاہم خالد مسعود کو اس سے قبل تشدد، جارحانہ ہتھیار رکھنے اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، لیکن انہیں دہشت گردی سے متعلق کسی کیس میں مجرم نہیں ٹھہرایا گیا۔
حملے کے وقت پارلیمنٹ کی عمارت میں ہاؤس آف کامنز کا اجلاس جاری تھا جسے معطل کردیا گیا اور اراکین پارلیمنٹ کو اپنے چیمبر میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔
برطانوی پولیس کے مطابق حملہ آور اکیلا تھا اور اس نے 'عالمی دہشت گردی سے متاثر' ہو کر یہ حملہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲