اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو میں کینیڈا کے معروف تجزیہ کار’’بیری گراسمین‘‘نےکہاکہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل ،واشنگٹن اوربرطانیہ یمن میں آل سعود کے جنگی جرائم میں برابرکے شریک ہیں کیونکہ یہ ممالک براہ راست یا بلواسطہ طورپر اس غریب عرب ملک کے خلاف جارحیت میں سعودی عرب کی حمایت کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یمن میں سنگین انسانی بحران اس ملک کے خلاف اقوام متحدہ کی ناجائز پابندیوں اورسعودی رژیم کی مسلط کردہ جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ انسانی اصولوں کی بنیاد پر سعودی وہابی رژیم ،امریکہ ،برطانیہ اوراقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل یمن میں انسانی بحران کے ذمہ دار ہیں ۔
سعودی عرب کے جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تجزیہ کار نے کہاکہ امریکہ کی استثنائی اوریک پہلویت نے عالمی سیاست کو ایک نئے دور میں داخل کردیا ہے اوراس لئے صحیح طورپر اسے عالمی برادری کا نام نہیں دیا جاسکتا ۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ اوربرطانیہ کی طرف سے سعودی مؤقف کی حمایت آل سعود رژیم کیلئے ایک قیمتی تحٖفہ ہے اوراب یہ بھی سب پر واضح ہوچکا ہےکہ یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ امریکہ،نیٹو ممالک اورٖغاصب صیہونی ریاست کے مفادات میں ہے۔
موصوف تجزیہ نگار نے کہاکہ یہ حقیقت انتہائی خوفناک ہےکہ مغربی ممالک کی اکثریتی عوام اس بات سے ابھی بھی ناواقف ہےکہ ان کی حکومتیں یمنی شہریوں کے خلاف آل سعود کی مسلط کردہ جنگ کی حمایت کررہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مغربی حکومتوں کےسامنے یمنی عوام کے جان ومال کی کوئی قیمت نہیں ہے.
انہوں نے کہاکہ یمنی عوام کے خلاف حملوں کی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے کسی بھی قرارداد کو منظور نہیں کیا ہے تاہم اس کے باوجود سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں پر اس ادارے کی خاموشی سیکورٹی کونسل کی منافقت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہاکہ یمن میں اپنے اہداف کی حصولی میں ناکامی کے باوجود آل سعود حکومت منصورہادی کو مسلسل اقتدارمیں دوبارہ لانے کی کوشش کررہی ہے۔
واضح رہےکہ یمن پر سعودی عرب کے وحشیانہ جرائم کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے لیکن آل سعود حکومت، عالمی برادری کے احتجاج کی پرواہ کئے بغیر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کے عوام کی انقلابی تحریک کو کچلنے اور معزول صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے بہانے یمن پر جارحانہ حملے شروع کئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲