اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین میں آل خلیفہ کی عدالت نے آج ۱۴ مارچ بروز منگل کو اس ملک کے نامور عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے خلاف مقدمے کی سماعت کا اعلان کیا تھا جو عوام کے زبردست احتجاج کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔
اس تفصیلی رپورٹ میں گزشتہ رات سے اب تک کے لمحہ بہ لمحہ حالات کی عکاسی کی گئی ہے:
ٹائم ۲۲:۴۸ ( بوقت تہران) شب منگل: اللولوہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں ہنگامی حالات نافذ کر دئے گئے تمام ملازموں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں اور سڑکوں پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا۔
ٹائم ۲۳:۱۰(بوقت تہران): بحرینی جوانوں نے البلاد القدیم کے علاقے میں سکیورٹی فورس کی گاڑیوں پر پھتراؤ کر دیا۔


ٹائم ۰۱:۲۰ (بوقت تہران) بحرینی جوانوں نے کئی سڑکوں پر ٹائروں کو آگ لگا دی اور گیس سلینڈر سے دھماکے کئے۔


ٹائم ۹:۳۰(بوقت تہران) المعابیر کے علاقے میں پولیس نے ناکہ بندی کر دی جبکہ انقلابی جوانوں نے ٹائروں کو آگ لگانے کا سلسلہ جاری رکھا۔



ٹائم ۱۰:۰۰ (بوقت تہران) ملک کے کئی شہروں میں کرفیوں کے باوجود عوام نے حکومت کے خلاف اور شیخ عیسی قاسم کی حمایت میں مظاہرے کئے۔


ٹائم ۱۰:۴۰ (بوقت تہران): بحرین کی انقلابی عوام کی بھرپور مزاحمت کی وجہ سے آل خلیفہ حکومت ایک بار پھر شیخ عیسی قاسم کے خلاف مقدمے کی سماعت کو ۷ مئی تک ملتوی کرنے پر مجبور ہو گئی۔
ٹائم ۱۱:۵۰(بوقت تہران): بحرین میں آل سعود فوج کے ذریعے کئے گئے قبضے کی چھٹی سالگرہ(۱۴ مارچ) کے موقع پر بحرین کے مختلف علاقوں میں انقلابی جوان اپنا منہ سر لپیٹ کر سڑکوں میں احتجاج کی صورت میں موجود ہیں اور بغیر اسلحہ کے بحرینی فوج سے مقابلہ کرنے اور جام شہادت نوش کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔



