اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لکھنؤ میں دہشت گردی کی ناکام کوشش اور سیف اللہ کے انکائونٹر پر سخت مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے آج اپنے بیان میں کہاکہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردوں کے نشانہ پر شیعہ مقدس مقامات اور صوفی درگاہیں و خانقاہیں رہی ہیں۔ دنیا کے بڑے دہشت گردانہ واقعات میں اسلامی مقدس مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا اسلام سے دوردور تک کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلامی آثار کو ختم کرنا ہی انکا بنیادی مقصد ہے۔
مولانا نے سیف اللہ کے انکائونٹر پر کہاکہ اگر اسکے سامان سے داعش کا جھنڈا اور سعودی عرب کا ویزا ملا ہے تو پھر پولیس کیوں کہہ رہی ہے کہ اسکا داعش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مولانا نے کہاکہ جس طرح لکھنؤ کو اخباریت و ملنگیت کا مرکز بنایا جارہاہے اسی طرح لکھنؤ کو داعش کا مرکز بنانے کی تیاری بھی ہورہی ہے۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے کہہ رہا ہوں کہ ایسے مولویوں کی جانچ ہونی چاہئے جنہوں نے کسی بھی سطح پر داعش کی حمایت کی ہے ۔ابوبکر بغدادی کو شہر لکھنؤ سے خط لکھا گیا ۔ایک مولوی نے اپنے فیس بک کے صفحہ پر داعش کے نقشہ اور جھنڈے کی ترویج کی ۔مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ایسے مولویوں کی چھان بین نہیں کی جاتی ۔
مولانا نے کہاکہ عوام کی خطا نہیں ہے بلکہ انہیں مولوی گمراہ کرتے ہیں لہذا ایسے مولویوں کی جانچ ہونا بہت ضروری ہے جو داعش کی حمایت کرچکے ہیں ۔ایسے ہی مولویوں کی بنیاد پر نوجوان گمراہ ہوتے ہیں ۔اگر ایسے داعش کے حامی مولویوں کی جانچ نہیں ہوتی ہے اور لکھنؤ میں کوئی دہشت گردانہ واقعہ رونما ہوتاہے تو اسکی پوری ذمہ داری انتظامیہ کی ہوگی ۔اس لئے ایسے لوگوں پر شکنجہ کسا جانا بیحد ضروری ہے۔
مولانا نے کہا کہ سیف اللہ کے باپ نے بیٹے کی لاش نہ لیکر یہ ثابت کردیا کہ مسلمانوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ہمیں ایسے باپ پر فخر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲