4 مارچ 2017 - 08:08
ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے اصل ملزمان کو دوہزار آٹھ سو اٹھاسی بار عمرقید کی سزا

انقرہ میں حکومتی وکیل نے گذشتہ برس پندرہ جولائی کو ہونےوالی ناکام فوجی بغاوت کے اصل ذمہ داروں کے خلاف عدالت سے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ بغاوت کے اصل ملزمان کو دوہزار آٹھ سو اٹھاسی بار عمرقید کی سزا سنائی جائے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق انقرہ میں ایک سرکاری وکیل نے گولن گروہ کے سربراہ فتح اللہ گولن کوجو امریکی ریاست پنسلوانیا میں مقیم ہیں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا اصل ذمہ دار قراردیا ہے۔

ترکی کی حکومت کے وکیل نے اڑتیس دیگر ملزمان کے خلاف جن میں ترکی کی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئرمارشل آکین اوزترک اور ترک فوج کے کئی دیگر سابق فوجی افسران شامل ہیں دوہزار آٹھ سو اٹھاسی بار عمر قید کی سزا کی درخواست کی ہے۔

ترک حکومت کے وکیل نے جن لوگوں کے خلاف سخت سزاؤں کی اپیل کی ہے ان کے بارے میں کہا جاتاہے کہ بغاوت کی کامیابی کی صورت میں یہی لوگ نئی حکومتی کونسل کے رکن ہوتے۔

اس کیس میں دوسواکیس افراد کو کلیدی ملزم قراردیا گیا ہے جن میں سے ایک سو ننانوے افراد حراست میں ہیں اور آٹھ افراد مشروط طور پر آزاد ہیں البتہ وہ عدالتی حکام کی نگرانی میں ہیں۔

ترک حکومت کے استغاثہ نے کہا ہے کہ ملک میں فوجی بغاوت کی تیاری دسمبر دوہزار پندرہ سے کی جارہی تھی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور ترک افواج کی جوائنٹ کمیٹی کے سربراہ جنرل خلوصی آکار اس کیس کے اصل مدعی ہیں۔

دوسری جانب ترک حکومت کے مخالف رہنما فتح اللہ گولن نے بغاوت سے متعلق اپنے اوپر عائد سبھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مذکورہ بغاوت کی مذمت کی ہے۔

.......

/169