11 اکتوبر 2026 - 09:41
ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے میں 12 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے، یویارک ٹائمز

یمنی راہنما البخیتی نے کہا: یہ حملہ دنیا کو یہ پیغام پہنچانے کے مقصد سے کیا گیا کہ یمن کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، شادی اور ماتم کی تقریبات کے ہال، ہسپتال اور بازار شہری تنصیبات ہیں اور انہیں حملے کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے اور نہ انہیں نقصان پہنچایا جانا چاہئے۔

بین الاقوامی بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || نیویارک ٹائمز نے عربی اور مغربی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ گذشتہ روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمن کی فوج اور انصاراللہ کے میزائل حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، یہ ـ ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب ت، خلیج فارس کے کنارے واقع عرب ممالک میں سے کسی ایک پر اب تک کا سب سے مہلک حملہ ہے۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ریاض کے ہوائی اڈے پر یمن کے میزائل حملے نے محمد بن سلمان کے اونچی اڑانوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

سعودی عرب کی شہری ہوا بازی تنظیم نے اعلان کیا کہ شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ہوائی اڈے کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ اس ہفتے کے دوران یمن کے مسلسل حملوں نے ریاض کو عالمی ہوائی نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے ولیعہد 'ایم بی ایس' کے منصوبوں کو چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔ئ

سعودی عرب پر حملوں کی توسیع ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب یہ ملک کئی اہم اقتصادی اور توانائی کی تقریبات کی میزبانی کے لئے تیاری کر رہا ہے۔ عالمی کانگریس برائے تیل 11 سے 14 اکتوبر تک منعقد ہونے کا منصوبہ تھا اور فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو کانفرنس 26 سے 29 اکتوبر کے لیے طے شدہ تھی۔

ان کانفرنسوں کے منتظمین نے دعویٰ کیا کہ پروگرام طے شدہ وقت کے مطابق جاری رہیں گے؛ تاہم، مغربی ذرائع کے اعتراف کے مطابق، پروازوں میں خلل اور ریاض کی سلامتی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش شرکاء اور غیر ملکی حکام کی شرکت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے پر انصاراللہ یمن کا ردعمل

انصاراللہ یمن کے سینئر رکن محمد البخیتی نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں ہفتہ کے روز ریاض پر حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اعلان کیا کہ یہ حملہ سعودی عرب کے حملوں کے جواب میں کیا گیا، جن میں یمن کے بنیادی شہری ڈھانچوں پر حملے بھی شامل ہیں۔

البخیتی نے کہا: یہ حملہ دنیا کو یہ پیغام پہنچانے کے مقصد سے کیا گیا کہ یمن کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، شادی اور ماتم کی تقریبات کے ہال، ہسپتال اور بازار شہری تنصیبات ہیں اور انہیں حملے کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے اور نہ انہیں نقصان پہنچایا جانا چاہئے۔

انھوں نے زور دیا کہ یمن میں ان تنصیبات کے تحفظ کے بارے میں جن قواعد کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، وہی قواعد کو دنیا کے تمام دیگر مقامات پر بھی نافذ ہونا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha