28 فروری 2017 - 19:40

اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے چیئرمین مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی کی جانب سے شھید بنظیرآباد ضلح کا خصوصی دورا کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے چیئرمین مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی کی جانب سے شھید بنظیرآباد ضلح کا خصوصی دورا کیا گیا،مختلف تنظیمی یونٹس میں مجلس، دروس کا انعقاد، سنئیر علما حضرات سے ملاقاتیں، انجام پائیں۔ تفصیلات کے مطابق یونٹ اللہ رکھیو کانھیو میں مولانا غلام شبیر کانھیو کے والد کی برسی پہ مجلس کا انقعاد کیا گیا۔ جس میں تنظیمی سنئیرس، عزاداروں اور دیگر مومنین نے شرکت کی، مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مفکراسلام سید حسین موسوی نے موت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کے موت ختم ہونے کا نام نہیں بلکہ اس دنیا سے آگے والی دنیا میں جانے کا نام ہے، جب کہ قبر میں انسان کے اعمال کے مطابق سفر ہے جو کہ مومن کے اعمال کے مطابق آسان ہوتا ہے لیکن گنہگار کے لئے انتھائی مشکل سفر ہوتا ھے، ہمارے اعمال ایسے ہونا چاہیئے کہ وقت کا امام عج ھم سے خوش ھو تاکہ ان کو تکلیف کے باعث بنیں، معاشرہ میں لوگ ایسے غافل ھوجاتے ہیں جیسے ان کو موت آنی نہیں ھے، مومن کو ھر لمحے موت کو یاد اور اس پر کامل یقین رکھنا چاھیئے۔

مجلس کے بعد سنیئرس سے ملاقاتیں بھی کی گئی، جس میں اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کے سابق مرکزی صدر محمد یاسین عارفی، سابقہ مرکزی چیف اصغریہ اسکائوٹ غازی غلام مھدی، ایڈوکیٹ ضامن علی کانھیو، سید قربان علی شاھ اور دیگر شامل تھے، اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے یونٹ میر محمد کوسو میں درس کا انعقاد ہوا جس میں سنی شیعہ مومنین نے کثیر تعداد میں شرکت کی، دین کے موضوع پر درس دیتے ہوئے سید حسین موسوی نے کہا کے بدقسمتی سے ھمارے منبر و محراب اب دین نہیں بتاتا صرف تاریخی واقعات بتائے جاتے ہیں جس کے معلوم ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔دین کو سمجھانا بہت ضروری ہے کہ انسان اس کے مطابق اپنے اعمال کرے، یہاں دین مرشدوں کا بن گیا ہے، کہیں تعویزات کا دین بن گیا ہے، اس میں حقیقی دین جو خدا کا دین ہے وہ گم ہوگیا ہے۔

 نماز مغربین کے بعد قائد عوام یونیورسٹی کے ھاسٹل پر اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کی جانب سے درس کا انقعاد ہوا، جس میں مختلف ڈپارٹمنٹس نے شرکت کی ، دین اسلام اور دیگر ادیان پہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ادیان اور نظریات موجود ہیں جن کے ماننے والے بھی موجود ہے، اسلام ھمیں درس دیتا ہے کہ ان کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے، اور ان کو اپنے دین کی دعوت دیں، مگر کسی بھی جگہ پر ان سے نفرت کا درس نہیں ملتا، ھمیں چاھیئے کہ ان کے دین کو سنیں پڑھیں اور پھر دلیل سے ثابت کریں کہ اسلام کامل دین ہے، ہمارا رویہ، اخلاق، گفتار اور کردار اگر اسلام کے مطابق ھوگا تو یقینا لوگ اسلام کی جانب راغب ہونگے، درس کے بعد سوال اور جوابات کا سلسلہ بھی ہوا جس میں نوجوانوں نے اپنے سمجھ اور واضحات بھی معلوم کیئے، بعد میں نوجوانوں نے سید حسین موسوی سے تفصیلی گفتگو کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲