27 فروری 2017 - 12:47
دنیا کے ساتھ تعلقات کے لیے مضبوط بینکنگ نظام کی اہم ضرورت: صدر روحانی

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کو تمام شعبوں میں تقریبا سو فیصد نافذ کیا گیا ہے تاہم بینکاری شعبے میں کچھ مسائل ہیں مگر دنیا کے ساتھ تعلقات کے لئے مضبوط بینکنگ نظام کی اہم ضرورت ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کو تمام شعبوں میں تقریبا سو فیصد نافذ کیا گیا ہے تاہم بینکاری شعبے میں کچھ مسائل ہیں مگر دنیا کے ساتھ تعلقات کے لئے مضبوط بینکنگ نظام اہم ضرورت ہے.

يہ بات صدر مملکت 'حسن روحاني' نے پير کے روز 55ويں سالانہ ايراني سٹيٹ بينک سميت مختلف بينکوں کے حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہي.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملک ميں بينکنگ انڈسٹري کي حيثيت نہائت اہم ہے اور پابنديوں کے دور ميں اس کے منفي اثرات سے سے پہلے ملکي بينکوں پر مرتب ہوئے.

ایرانی صدر نے پابندیوں کے دور میں ملک کے بینکوں کو در پیش متعدد مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرنسی اور مالیاتی مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنا موجودہ ایرانی حکومت کی سب سے اہم ترجیح رہی ہے.

انہوں نے مزيد بتايا کہ بعض اوقات ملک پر بيروني پابندياں عائد کي جاتي ہيں جس کي وجہ سے ملکي بينک بيروني مسائل کا شکار ہوجاتے ہيں.

صدر روحاني نے اس بات پر زور ديا کہ بينکوں کو چاہئے اپنے اندروني معاملات درست کريں کيونکہ اندروني اور بيروني مسائل حل نہ ہونے سے بينکاري سرگرميوں کو شديد نقصان پہنچے گا.

تفصيلات کے مطابق، 55ويں سالانہ بينکوں کے اجلاس کے موقع پر صدر روحاني نے 10 ہزار ريال کے نئے ايراني نوٹ کو بھي متعارف کراديا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایرانی صدر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کو تمام شعبوں میں تقریبا سو فیصد نافذ کیا گیا ہے تاہم بینکاری شعبے میں کچھ مسائل ہیں مگر دنیا کے ساتھ تعلقات کے لئے مضبوط بینکنگ نظام اہم ضرورت ہے.

يہ بات صدر مملکت 'حسن روحاني' نے پير کے روز 55ويں سالانہ ايراني سٹيٹ بينک سميت مختلف بينکوں کے حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہي.



اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملک ميں بينکنگ انڈسٹري کي حيثيت نہائت اہم ہے اور پابنديوں کے دور ميں اس کے منفي اثرات سے سے پہلے ملکي بينکوں پر مرتب ہوئے.



ایرانی صدر نے پابندیوں کے دور میں ملک کے بینکوں کو در پیش متعدد مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرنسی اور مالیاتی مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنا موجودہ ایرانی حکومت کی سب سے اہم ترجیح رہی ہے.



انہوں نے مزيد بتايا کہ بعض اوقات ملک پر بيروني پابندياں عائد کي جاتي ہيں جس کي وجہ سے ملکي بينک بيروني مسائل کا شکار ہوجاتے ہيں.



صدر روحاني نے اس بات پر زور ديا کہ بينکوں کو چاہئے اپنے اندروني معاملات درست کريں کيونکہ اندروني اور بيروني مسائل حل نہ ہونے سے بينکاري سرگرميوں کو شديد نقصان پہنچے گا.



تفصيلات کے مطابق، 55ويں سالانہ بينکوں کے اجلاس کے موقع پر صدر روحاني نے 10 ہزار ريال کے نئے ايراني نوٹ کو بھي متعارف کراديا.