اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار نصیر احمد اندیشہ کے مطابق، پاکستانی سفیر ابرار حسین سے بقول ان کے پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے راکٹ حملوں پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔افغانستان کا دعوی ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحدی صوبوں، کنڑ اور ننگر ہار کے مختلف علاقوں پر مسلسل راکٹوں اور توپخانے سے حملے کیے جارہے ہیں۔ حکومت افغانستان کے مطابق، پاکستان کی جانب سے جاری حملوں کے سبب جانی اور مالی نقصان بھی ہوا ہے۔افغانستان کی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹرنصیر احمد اندیشہ کے مطابق پاکستانی سفیر کے ساتھ ملاقات میں ڈیورنڈ لائن کے قریب مہمند ایجنسی کے علاقے میں پاکستانی فوج کی نقل و حرکت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں افغان مہاجرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور گرفتاری کی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ سلسلہ بند کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ دوسری جانب پاکستان میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے پاکستانی سفیر نے افغان حکام کو بتایا ہے کہ پاکستان نے شیلنگ میں پہل نہیں کی ہے بلکہ پہلے پاکستانی چیک پوسٹوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔سرحدوں کی بندش کے بارے میں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آپریشن ردالفساد شروع کردیا گیا ہے اور سرحدیں بند کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گرد پاکستان میں داخل نہ ہونے پائیں۔
........
/169