اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے یلو کیک کی پیداوار اور پُرامن جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے ایران کی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو جوہری ترقی کے حوالے سے مزید خوشخبری ملے گی.
ان خيالات كا اظہار 'علي اكبر صالحي' نے گزشتہ روز ايراني شہر 'قم' ميں اعلي مذہبي رہنماؤں كے ساتھ ملاقاتوں كے بعد صحافيوں كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ آئندہ مہينوں تك ايران ميں صدارتي اور بلدياتي انتخابات ہونے جارہے ہيں اور اس كے ساتھ جوہري معاہدے كي حمايت اور مخالفت ميں مختلف گروہ ہيں مگر بعض لوگ قومي مفاد كي بنياد پر نہيں بلكہ پارٹي بنياد پر اس معاہدے پر تنقيد كرتے ہيں۔
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايران كے قومي مفاد كے تناظر ميں جوہري معاہدے كو ديكھا جائے اور اگر كسي بات پر تنقيد كرني ہے تو قومي مفاد كو سامنے ركھتے ہوئے يہ اقدام كيا جائے
ايران جوہري معاہدے كے خلاف سازشوں كا ذكر كرتے ہوئے صالحي نے مزيد كہا كہ ڈونلڈ ٹرمپ سميت ناجائز صہيوني رياست اور سعودي عرب جوہري معاہدے سے خوش نہيں مگر اس مسئلے كو حل كيا جانا چاہئے.
ايران كے جوہري شعبے ميں ہونے والي پيشرفت كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ تين كھيپوں پر مشتمل 149 ٹن يلو كيك خريدي گئي ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ ايران جوہري معاہدے كے نفاذ سے ايراني كي تيل پيداوار اور برآمدات ميں قابل قدر اضافہ ہوا اور اقتصادي راہ ميں موجود 60 سے 70 فيصد ركاوٹوں كا بھي خاتمہ ہوا ہے.
انہوں نے مغربي ممالك كي جانب سے جوہري معاہدے كي خلاف ورزي كرنے پر ايران كے ردعمل كے بارے ميں كہا كہ جيسا كے سپريم ليڈر حضرت آيت اللہ خامنہ اي نے فرمايا ہے، مغرب كي جانب سے خلاف ورزي كي صورت ميں ايران 18 مہينوں كے اندر يورينيم كي افزودگي كي سطح ميں ايك لاكھ اضافہ كرے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲