5 فروری 2017 - 12:16
تہران، ماسکو اور انقرہ کے درمیان سہ فریقی تعاون پر تبادلہ خیال

اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور روسی صدر کے خصوصی ایلچی نے ایک ملاقات کے دوران شام امن مذاکرات اور اس حوالے سے تہران، ماسکو اور انقرہ کے درمیان سہ فریقی تعاون پر تبادلہ خیال کیا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور روسی صدر کے خصوصی ایلچی نے ایک ملاقات کے دوران شام امن مذاکرات اور اس حوالے سے تہران، ماسکو اور انقرہ کے درمیان سہ فریقی تعاون پر تبادلہ خیال کیا.

اعلي قومي سلامتي کونسل کے سيکرٹري ايڈميرل 'علي شمخاني' نے اتوار کے روز ايران کے دورے پر آنے والے روسي صدر کے ايلچي برائے امور شام 'اليگزينڈر لاورنتيف' کے ساتھ ايک ملاقات ميں شام کي تازہ ترين صورتحال بالخصوص دہشتگردي کے خلاف ايران،روس تعاون کے حوالے سے بات چيت کي.

اس موقع پر انہوں نے شام امن عمل کے حوالے سے ايران،روس اور ترکي کے سہ فريقي تعاون پر بعض علاقائي ممالک کي نام نہاد تشويش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ يہ ممالک شامي قوم کے خيرخواہ نہيں بلکہ وہ دہشتگرد گروہوں کي غيرموثر حيثيت اور ان کے خاتمے پر پريشان ہيں.

آستانہ میں منعقد ہونے والے شام امن مذاکرات کے حوالے سے ایران اور روسی کی مشترکہ حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن عمل کو آگے بڑھانے کے مقصد سے دونوں ممالک کو تعمیری تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے.

ایڈمیرل علی شمخانی نے مزید بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، شام کے بحران کو سیاسی اور پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے لئے اپنے تعمیری کردار جاری رکھے گا اور ہم سمجھتے ہیں فوج آپشن کاروائی صرف ان مسلح عناصر اور گروہوں کے خلاف ہونی چاہئے جو ھتھیار نہیں ڈالنا چاہتے.

انہوں نے کہا کہ جب تک داعش اور النصرہ فرنٹ جیسی دہشتگرد تنظیموں شام میں موجود ہوں اور ان کو بعض علاقائی ممالک کی حمایت کا سلسلہ بھی جاری ہو تو شام کے بحران کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے مثبت فضا کے قیام ممکن نہیں ہے.

اس ملاقات کے دوران روسی صدر کے ایلچی نے شام امن عمل کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آستانہ مذاکرات، ایران-روس-ترکی سہ فریقی تعاون اور موثر حکومت عملی کی کامیابی کی علامت ہے.

الیگزینڈر لاورنتیف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران، روس اور ترکی کی جانب سے شام میں دہشتگردوں بالخصوص وہ عناصر جو امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش کریں گے، کے خلاف مشترکہ گراؤنڈ آپریشن کا سلسلہ جاری رہے کا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲