24 دسمبر 2016 - 07:52
امام خمینی اور رہبر معظم کے افکار میں تقریب مذاہب اسلامی کانفرنس کے کمیشن A کی رپورٹ

انہوں نے اپنے مقالے میں باہمی اتحاد کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا: فروعات کے بجائے اصولوں کی طرف توجہ، شیعہ سنی مشترکات کو پیش نظر رکھنا، امت واحدہ کی تشکیل کے لیے کوشش اور اختلافی نظریات سے پرہیز جیسے عوامل مسلمانوں کو آپس میں متحد کرنے میں کافی رول ادا کر سکتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے شہر اراک میں ’’امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی کے افکار میں اسلامی مذاہب کی تقریب‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پہلی قومی کانفرنس کی کمیشن A میں شرکت کرنے والے افراد نے اپنے اپنے مقالے پیش کئے۔
ابراہیم آقا محمدی نے ’’اسلامی مذاہب کی تقریب کا تجزیہ‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا: تاریخ اسلام میں ہمیشہ سے بزرگ علماء اور دانشور حضرات اسلامی مذاہب کو آپس میں جوڑنے کی کوششیں کرتے آئے ہیں اور آخر میں ان کوششوں کو علامہ محمد تقی قمی نے دار التقریب مصر کی طرح ایک نہضت میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا: اس نہضت کے نتیجے میں بہت سارے علماء نے سماجی، سیاسی، ثقافتی اور دیگر زمینوں میں اسلامی مذاہب کو ایک دوسرے سے قریب کرنے میں کافی کردار ادا کیا۔
کانفرنس کے اول درجہ پانے والے اس محقق نے کہا: اس مقالے میں اسلامی مذاہب کو آپس میں جوڑنے کے طریقے کار، اتحاد کے اہداف و مقاصد، باہمی سرگرمیاں اور ان کے نتائج کے جیسے عناوین پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
انہوں نے مصر میں اسلامی مذاہب کی تقریب کی کامیابی کے اہم ترین عوامل کو اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کی انحرافی سیاستوں، تعصب اور شدت پسندی سے دوری قرار دیا اور کہا: یہ عوامل اس بات کا باعث بنے کہ دینی علماء آپس میں مل جل کر رہیں اور تقریبی تحولات وجود میں آئیں۔
اس کمیشن میں رضا خندان نے ’’تقریب مذاہب میں میڈیا کا کردار‘‘ کے عنوان س اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا: اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ انسان کی فکر ایک اکتسابی امر ہے اور انسان کے اعمال اس کے افکار کا نتیجہ ہوتے ہیں، عصر حاضر میں انسان کی فکر میں میڈیا بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے ہمیں اپنے میڈیا کو اسلامی مذاہب کی تقریب کی سمت موڑنا چاہیے، امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ اپنے افکار کا خیال رکھیں اس لیے کہ وہ تمہارے اعمال پر اثر انداز ہوتے ہوئے۔
اس کمیشن میں پیش کئے گئے تیسرے مقالے میں کمال رنجبری نے کہا: آج عالم اسلام میں وحدت اور ہمدلی جو اسلامی ممالک میں تقریب مذاہب کے عنوان سے پیش کی جا رہی ہے کی ضرورت پہلے سے بہت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا: باہمی اتحاد کی سب سے پہلی ضرورت، عالم اسلام کی فضا شناسی اور سماج شناسی ہے، مادی اور معنوی امکانات اور سہولیات جو عالم اسلام کے پاس موجود ہیں وہ بھی باہمی اتحاد کو وجود میں لانے میں کافی موثر ہیں، معنوی امکانات جو مسلمانوں کے پاس ہیں وہ قرآن کریم، اللہ پر ایمان اور اسلامی بیداری ہے۔
رنجبری نے عالم اسلام میں تفرقہ اور اختلاف کے عوامل کو گنواتے ہوئے کہا: قومی مذہبی تعصب، فاسد حکومتوں کی سیاستیں، دینی منابع کی طرف عدم توجہ، دینی علماء کی کاہلی، سرد جنگ، گروہ بندی اور اس طرح کے دسیوں ایسے عوامل ہیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے مقالے میں باہمی اتحاد کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا: فروعات کے بجائے اصولوں کی طرف توجہ، شیعہ سنی مشترکات کو پیش نظر رکھنا، امت واحدہ کی تشکیل کے لیے کوشش اور اختلافی نظریات سے پرہیز جیسے عوامل مسلمانوں کو آپس میں متحد کرنے میں کافی رول ادا کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲