20 دسمبر 2016 - 12:10
آلبوغیش: تکفیری افکار کے ساتھ ثقافتی مقابلہ کرنا جنگ سے زیادہ ضروری

انہوں نے کانفرنس میں مدعو کئے گئے علماء اور دانشوروں کے بارے میں بتایا کہ اس کانفرنس میں ان شخصیات کو دعوت دی گئی ہے جنہوں نے سالہا سال اسلامی تقریب کے راستے پر کام کیا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تقریب مذاہب اسلامی کی بین الاقوامی کانفرنس کے عہدہدار نے کانفرنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اس کانفرنس میں جن اہم ترین موضوعات پر گفتگو کی جائے گی وہ تکفیری ٹولوں اور افکار کے ساتھ مقابلہ کا طریقہ ہے۔ ممکن ہے ان ٹولوں کے مقابلے میں فوجی کاروائی کا طریقہ مطلوب محسوس ہو لیکن فوجی کاروائیوں سے تکفیری افراد کو ختم کیا جا سکتا ہے افکار کو نہیں، تکفیری افکار کو ختم کرنے کے لیے ہمیں ثقافتی میدان میں آگے بڑھنا ہو گا۔
البوغیش نے کانفرنس کے حوالے سے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو میں کہا: عام طور پر ہر سال اسلامی مذاہب کی تقریبی کانفرنس میں اسلامی ممالک کی اہم شخصیات شرکت کرتی رہی ہیں اور اس سال یہ کانفرنس صوبہ مرکزی اور اراک شہر میں منعقد ہو گی اور شہر اراک غیر ملکی مہمانوں کی میزبانی کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا: اس کانفرنس کے مقررین میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن اور مجمع تقریب مذاہب کے سکریٹری جنرل آیت اللہ اراکی جو عالم اسلام میں ایران کی ایک برجستہ تقریبی شخصیت کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں سرفہرست ہیں۔ وہ اس کانفرنس میں اپنے خطاب سے محظوظ کریں گے۔ جبکہ اس کانفرنس میں مصر، لبنان، عراق یمن اور تیونس سے بھی دانشور شخصیات شرکت کر رہی ہیں جو عالم اسلامی کی مشکلات اور ان کے راہ حل کے بارے میں اپنا موقف بیان کریں گی۔
انہوں نے کانفرنس میں مدعو کئے گئے علماء اور دانشوروں کے بارے میں بتایا کہ اس کانفرنس میں ان شخصیات کو دعوت دی گئی ہے جنہوں نے سالہا سال اسلامی تقریب کے راستے پر کام کیا ہے خاص طور پر موجودہ دور میں جب عالم اسلامی اندرونی مشکلات میں گرفتار ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اراک کی یونیورسٹی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ثقافتی اداروں کے تعاون سے امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی کے افکار میں اسلامی مذاہب کی تقریب کے زیر عنوان پہلی قومی کانفرنس منعقد کی ہے جس میں ایران کے علماء اور دانشوروں کے علاوہ غیر ملکی دانشوروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲