9 دسمبر 2016 - 12:59
حلب میں شامی فوج کا آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا: روسی وزیرخارجہ

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاورف نے اعلان کیا ہے کہ شامی فوج نے حلب میں اپنی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی ہیں تاکہ عام شہری وہاں سے باہر نکل سکیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نامہ نگاروں سے گفت‍گو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمعے کو حلب کے مشرق میں شامی فوج کی کارروائیاں روک دی گئی ہیں کیونکہ اس وقت وہاں سے عام شہریوں کو باہر نکالنے کی بڑی کارروائی انجام پا رہی ہے-

انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو مشرقی حلب سے باہر نکالنے کی کارروائیوں کے دوران آ ٹھ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا رہا ہے- روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حلب کی صورتحال کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے روسی اور امریکی فوجی ماہرین ہفتے کو جنیوا میں ملاقات کریں گے-

واضح رہے کہ مشرقی حلب میں موجود مسلح مخالفین اور دہشت گردوں نے پے درپے شکستوں کے بعد جنگ بندی کی اپیل کی تھی لیکن شامی اور روسی حکومتوں نے واضح کر دیا تھا کہ جب تک مسلح دہشت گرد حلب سے باہر نہیں نکل جاتے جنگ بندی قائم نہیں ہوگی-

اس درمیان فرانس پرس نے خبر دی ہے کہ روسی وزیر خارجہ کے اس اعلان کے بعد ہی حلب پر ہوائی حملے بند ہو گئے ہیں اور توپوں کی آوازیں بھی کم ہو گئی ہیں- البتہ بعض خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ حلب کے مشرقی علاقوں الکلاسہ اور المعادی میں شامی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان جنگ جاری ہے-

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی میستورا نے بھی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ لڑائیوں کے خاتمے کے لئے مذاکرات جلد ہی دوبارہ شروع کئے جائیں گے-

اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کی ایک عہدیدارالزبتھ ٹروڈو نے کہا تھا کہ وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف حلب سے عام شہریوں کو باہر نکالنے کے لئے عارضی جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں- وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی کہا تھا کہ روسی وزیر خارجہ کے بیانات سے مثبت اشارے مل رہے ہیں-

شام کا شمالی شہر حلب جنگ سے پہلے اس ملک کا اقتصادی اور صنعتی دارالحکومت تصور کیا جاتا تھا لیکن اس وقت شامی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان جنگ کا میدان بنا ہوا ہے- حلب کے مشرقی علاقوں پر دہشت گردوں نے دوہزار بارہ سے قبضہ کر رکھا ہے اور یہ شہر عملی طور پر مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے- شہر کا مغربی حصہ شامی فوج کے کنٹرول میں ہے تاہم شامی فوج نے پچھلے چند روز کے دوران دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں انجام دیتے ہوئے دہشت گردوں کے زیرقبضہ مشرقی حلب کے پچاسی فیصد علاقوں کو آزاد کرا لیا اور اب ان علاقوں سے عام شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے-

مشرقی حلب میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شامی فوج کو روسی فضائیہ کی بھی حمایت حاصل ہے- اطلاعات ہیں کہ مشرقی حلب کے ان علاقوں میں جھنیں دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے، شامی فوج نے امن قائم کر دیا ہے- حلب سے موصولہ خبروں کے مطابق شامی فوج کے دستوں نے مشرقی حلب کے شیخ سعید علاقے سے شیخ لطفی اور بلورہ کی جانب جانے والے راستوں پر واقع سبھی رہائشی کمپلیکس اور علاقوں نیز مشرقی حلب کے باب النیرہ ، باب الحدید ، جادہ الخندق ، الحمیدیہ ، قاضی عسکر ، المشاطیہ ، کرم الجبل ، اور باب النصر جیسے علاقوں کو آزاد کرا لیا ہے جبکہ جنوبی حلب میں بھی متعدد علاقے دہشت گردوں کے وجود سے پاک کر دئے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169