اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک عرب تجزیہ نگار ہاشم الفخرائی نے ایک رپورٹ میں قطر اور صہیونی حکومت کے درمیان روابط کے معمول پر آنے کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے ایسے وقت میں کہ ایک چھوٹا ملک قطر مسجد الاقصی کا محاصرہ ختم کیے جانے کی فریاد بلند کر رہا ہے اس نے تل ابیب کے ساتھ اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مشکوک روابط برقرار کیے ہیں ایسے روابط کہ جن پر قطر کے بادشاہی خاندان نے سرپوش رکھا ہے اور اس کے سامنے آنے سے اسے شرم محسوس ہو رہی ہے ۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ان مشکوک روابط کا پردہ فاش کر دیا ، روزنامہ بدیعوت آحارونوت نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے قطر کی حماس تحریک کی حمایت و غزہ کی پٹی میں جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے بر خلاف اس کے روابط اقتصادی تناظر میں ہیں کہ جو دوحہ کو تل ابیب سے جوڑ رہے ہیں یہ اقتصادی روابط ایک فریق ثالث کے ذریعے کہ جو معمولا ترکی اور کبھی قبرص ہے انجام پاتے ہیں ۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب ان دو کے درمیان سیاسی روابط نہیں ہیں ۔لیکن سال ۲۰۱۵ میں دوحہ اور تل ابیب کے درمیان ۷ میلیارد ڈالر کی تجارت ہوئی ، دوحہ کچے تیل کا مواد تل ابیب کو بھیجتا ہے اور تل ابیب فوجی کل پرزے وغیرہ دوحہ کو صادر کرتا ہے ۔
بدیعوت کی رپورٹ میں آگے آیا ہے کہ قطر اور اسرائیل کے درمیان فوجی روابط بھی ہیں قطر کی وزارت دفاع اپنی زمینی فوج کے لیے ہتھیار اور سازو سامان اور رات کو دیکھنے والے کیمرے وغیرہ تل ابیب سے لیتا ہے ۔
صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کے نزدیکی اقتصادی روزنامے کلکسٹ نے راز فاش کیا کہ قطر کی بادشاہی خاندان آل ثانی کے ایک رکن نے نومبر ۲۰۱۳ میں قطر کے امیر اسبق حمد بن خلیفہ آ ل ثانی کے حکم سے تل ابیب کا دورہ کیا تا کہ جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں چند سمجھوتوں پر دستخط کرے ۔
اس سفر میں اسرائیل کے کچھ تاجروں اور قطری تاجروں نے آپس میں ملاقات کی کہ جنمیں سر فہرست اوران شاحور تھا جو اسرائیل کی ٹیکنالوجی کے بازار پر مسلط تھا ۔ اسی سلسلے میں حمد بن خلیفہ آل ثانی نے سال ۲۰۰۹ میں پہلی بار اسرائیل کا دور کیا اور اس وقت کے وزیر خارجہ زیپیلیونی اور صہیونی حکومت کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کے ساتھ ملاقات کی ۔
اس رپورٹ میں آگے آیا ہے : تل ابیب اور دوحہ کے روابط کے دوسرے نمونے کے طور پر اسرائیل کے وزیر اسبق برائے دفاع موشہ دایان اور لیئور دیان کے فوٹووں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ جس نے ایک اسرائیلی لڑکی کے ساتھ قطر کا دورہ کیا تھا وہ پورا ایک ہفتہ دوحہ میں رہا اور اس نے اپنے دورے کو دلچسپ اور اچھا بتایا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲