اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو سے تہران میں ملاقات کے دوران کہا کہ عراق اور شام میں استحکام کا فروغ دونوں ہمسایہ ملکوں کا اصل ہدف اور تعاون کی بنیاد ہونی چاہئے.
اس ملاقات كے دوران صدر روحاني نے خطے كے امن اور امان كي صورت حال كے حوالے سے كہا كہ دونوں ملكوں كے باہمي تعاون اور مشوروں سے خطے ميں امن كي راہ ہموار ہوئي ہے.
انہوں نے تركي ميں فوج كي ناكام بغاوت اور مغربي ممالك كي دوغلي پاليسي كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ مغربي ممالك جمہوريت كو اپنے اہداف كے حصول كے لئے ايك آلہ كے طور پر استعمال كررہے ہيں.
صدر روحاني نے كہا كہ اگر خطے كے ممالك ايك دوسرے كے تعاون سے مسائل اور مشكلات كے حل كے لئے صلاح و مشورہ كريں تو مغربي طاقتوں كو خطے كے معاملات ميں مداخلت كا موقع نہيں ملے گا.
تركي كے وزير خارجہ مولود چاولو اغلو نے اس ملاقات ميں عراق ميں ايراني زائرين كي شہادت پر گہرے افسوس كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ ايران خطے ميں دہشتگردي كے خاتمے كے لئے اہم كردار ادا كرسكتاہے.
انہوں نے كہا ہم عراق اور شام كي خودمختاري اور علاقائي سالميت كا احترام كرتے ہيں.
تركي كے وزير خارجہ نے شام ميں دہشتگردوں كے خاتمہ پر زور ديتے ہوئے كہا كہ اب شام ميں جنگ بندي اور اس ملك ميں اختلافات كو سياسي طريقہ سے حل كرنے كا وقت آگيا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
ڈنمارک نے اسلامی جمہوریہ ایران میں گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے.