25 نومبر 2016 - 13:21
طویل خانہ نظر بندی کے بعد آغا حسن کو نماز جمعہ میں شرکت کی اجازت

آغا صاحب نے PSAکے تحت نظر بند لاتعداد نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ریاست کے محکوم عوام اپنے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کیلئے پُرامن جدوجہد کررہے ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کو حکام نے140 روزہ خانہ نظر بندی کے دوران پہلی بار مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیشوائی کے فرائض انجام دینے کی اجازت دی۔ اس دوران مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا صاحب نے وادی کشمیر میں چار ماہ سے جاری احتجاجی ہڑتال اور ہمہ گیر عوامی احتجاجات کو تنازعہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے اہل کشمیر کی دلی خواہش اور تڑپ کا مظہر قرار دیتے ہوئے حکومت ہند پر واضح کیا کہ تنازعہ کشمیر کے مستقل حل کے بغیر ریاست کے مجموعی حالات میں سدھار کی امید اور اس حوالے سے حکومتی اقدامات بے معنی ہیں۔

آغا صاحب نے کہا کہ 2008 اور 2010کی ہمہ گیر عوامی تحریکوں کے دوران حکومت ہند نے تنازعہ کشمیر کے حل کے حوالے سے جو یقین دہانیاں کی تھیں جب حالات میں بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے تو بھارت نے پھر اپنی روایتی ہٹ دھرمی کی پالیسی اختیار کی۔ کشمیری حریت پسند عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور موجودہ احتجاجی تحریک اسی بھارتی دھوکہ دہی کا ردعمل ہے۔ حق خود ارادیت کی اہمیت کے حوالے سے حکومت پاکستان کی کوششوں سے اقوام متحدہ میں منظور کردہ قرارداد اور 70ملکوں کی طرف سے اس قرار داد کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے آغا صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیری عوام حق خود ارادیت کے سوا کسی اور راہ حل پر راضی اور مطمئن نہیں ہوسکتے۔

آغا صاحب نے گزشتہ ساڑھے چار ماہ کے دوران سرکاری فورسز کے ہاتھوں شہید سو سے زیادہ نہتے احتجاجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عوام الناس سے اپیل کی کہ شہداءکی قربانیوں کی لاج رکھنے کیلئے متحدہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پر من وعن عمل کیا جائے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ رواں احتجاجی تحریک کے دوران جن سینکڑوں جوانوں کی آنکھوں کی بصارت متاثر ہوئی ہے ان کے علاج و معالجے کی ذمہ داریوں سے ریاستی انتظامیہ بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔

آغا صاحب نے PSAکے تحت نظر بند لاتعداد نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ریاست کے محکوم عوام اپنے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کیلئے پُرامن جدوجہد کررہے ہیں اور اپنے خواہشات و جذبات کا مظاہرہ کرنے کیلئے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں جو ہمارا جمہوری حق ہے۔ہماری پُرامن جدوجہد کو کچلنے کیلئے بندوقوں کے دہانے کھولے جارہے ہیں ، پیلٹ جیسے مہلک ہتھیاراستعمال کئے جارہے ہیں ۔کشمیری جوانوں کو پتھر بازی کا کوئی شوق نہیں پتھر بازی صرف اور صرف فورسز کی درندگی اور بربریت کا ردعمل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲