اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے نائیجیریا کے کانو شہر میں عزاداران امام حسین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائیجیریا کے شیعہ مسلمانوں پر ایک ایسے وقت اندھا دھند فائرنگ کرنا، جب وہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پرعراق میں پیدل چل کر کربلا جانے کی سنت حسنہ کی یاد میں کانو سے کادونا تک پیدل چل کر جا رہے تھے ، ایک تشویشناک اور ناقابل قبول امر ہے-
واضح رہے کہ پیر کو ہونے والے فوج کے اس وحشیانہ حملے میں کم سے کم سوعزادار شہید اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں- واقعے کے ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ xsفوج نے پرامن عزاداروں کو کانو شہر کے باہر ایک شاہراہ پر گھیر کر نشانہ بنایا ہے اور عزاداروں پر پہلے آنسوگیس کے گولے داغے پھر براہ راست فائرنگ شروع کردی۔
کانو شہر میں عزاداروں پر فوج کا یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب نائیجیریا کی فوج نے صوبۂ کاتسینا کے شہر فونتوا میں یوم عاشور کے جلوس پر بھی فائرنگ کی تھی جس میں بیس عزادار شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ اور فوج نے کادونا میں شیعہ مسجد کا محاصرہ کرکے تحریک اسلامی نائیجیریا کے پندرہ اراکین کو گرفتار کرلیا تھا-
اس سے قبل بارہ اور چودہ دسمبر دوہزار پندرہ کو نائیجیریا کی فوج نے زاریا شہر میں عزاداروں کا قتل عام کیا تھا جس میں سیکڑوں عزادارشہید ہوگئے تھے جن میں نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزکی کے تین بیٹے بھی شامل تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نائیجیریا کی فوج کو بے گناہ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی تھی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نائیجیریا کے شیعوں کے ساتھ اس ملک کی حکومت کا یہ رویہ صیہونی حکومت اور سعودی حکومت کی پالیسیوں کے دائرے میں ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲