اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/متحدہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے یوم استقلال کے طور پر جامع مسجد چلوکال کو ناکام بنانے کیلئے شہر سرینگر میں بلا اعلان کرفیو، جامع مسجد سرینگر کے گرد و نواح کے علاقوں میں شدید ناکہ بندیوں کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغاسید حسن الموسوی الصفوی، قائد تحریک سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق سمیت معتدد مزاحمتی قائدین کی خانہ نظربندی اور لبریشن فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک کی ازسر نو گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان نے حق خود ارادیت کیلئے 4 ماہ سے جاری ہمہ گیر احتجاجی تحریک کو حکومت ہند اور اُس کے کشمیری گماشتوں کیلئے ایک واضح پیغام سے تعبیر کیا ۔
آغا حسن جو گزشتہ 4 ماہ سے خانہ نظر بند ہیں، جامع مسجد کال کے پیش نظر موصوف کی رہائش گاہ پر فورسز کے محاصرے کو مزید سخت کردیا گیا، اور کسی کو بھی اندر جانے یاباہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آغا صاحب 18 ویں جمعہ کو بھی مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بحیثیت امام جمعہ اپنے دینی فرائض انجام نہ دے سکے۔
انجمن شرعی شیعیان کے خانہ نظربند سربراہ آغا سید حسن نے کہا کہ کے قدیم ترین دینی و تبلیغی مرکز جامع مسجد سرینگر کو4 ماہ سے مقفل رکھنے اور وہاں نماز پنجگانہ سمیت نماز جمعہ پر مکمل قدغن کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وادی بھر میں معتدد ائمہ جمعہ و جماعت اور خطیبوں کی حراست اور نظربندیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کا یہ مذموم طرز عمل دینی معاملات میں بدترین مداخلت ہے۔
آغاصاحب نے کہا کہ بھارت ریاست جموں کشمیر پرجابرانہ تسلط جاریرکھنے اور تنازعہ کشمیر سے دامن چھڑانے کیلئے ظلم و بربریت کے تمام نسخے آزمارہاہے، اور بھارتی مظالم کشمیری حریت پسند عوام کے تحریکی عزم و استقلال کومتزلزل نہیں کر سکے۔ انہوںنے کہا کہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے نہ صرف خطے کا امن واستحکام داو پر لگا ہوا ہے بلکہ یہ تنازعہ بھارت اور پاکستان کی اقتصادیات کو بھی کھوکھلا بنا چکی ہے۔جسکے انتہائی مضر اثرات اور تباہ کن نتائج دونوں ملکوں کے غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کیلئے بامعنی مذاکرات کے سوا بھارت اور پاکستان کے بگڑے تعلقات اور گشیدہ صورتحال کے ازالے کا اور کوئی راستہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲