اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تیونسی حکومت نے اپنے بیان میں کہا: تیونس کے وزیر اعظم یوسف الشاہد نے وزیر برائے مذہبی امور عبد الجلیل بن سالم کو ڈپلومیٹک قوانین و آداب کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے برخاست کردیا ہے۔
فرانس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، انہیں اس لیے برطرف کیا گیا تاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں رخنہ ایجاد نہ ہونے پائے۔
تیونس کے مقامی روزناموں نے خبر دی تھی کہ وزیر برائے مذہبی امور نے پارلیمنٹ میں ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ میں نے سعودی سفیر سے کہا کہ آپ لوگ اپنے مکتب کی اصلاح کریں۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا کے دہشتگردوں نے آپ ہی کے مکتب سے تربیت حاصل کی ہے۔
انہوں نے اس اجلاس میں کہا تھا کہ وہابیت ہی ایسا مکتب ہے جس کی وجہ سے دنیائے اسلام کو شدت پسندی اور جارحیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے سعودی سفیر سے اپنے مکتب اور اپنی آئیڈیالوجی میں سدھار لانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
.......
/169