6 نومبر 2016 - 14:55
امریکہ اور صیہونی ریاست انتہاپسندوں کو علاقے میں اپنا آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں: ڈاکٹر ولایتی

ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کی اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست خطے میں انتہاپسند عناصر اور دہشتگردوں کی سرپرستی کرتے ہوئے ان عناصر کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کی اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست خطے میں انتہاپسند عناصر اور دہشتگردوں کی سرپرستی کرتے ہوئے ان عناصر کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

ان خيالات كا اظہار 'علي اكبر ولايتي' نے گزشتہ روز ايران كے دورے پر آنے والے تيونس كے پارلماني وفد كے ممبران كے ساتھ ايك ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كيا.

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ دہشتگردوں اور سامراجي عناصر كا اصل مقصد اسلامي رياستوں كو تقسيم اور مسلم امہ كو عدم استحكام كا شكار كرنا ہے.

انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران دوست ملك تيونس كي ترقي كي حمايت كرتا ہے اور يہ بات باعث مسرت ہے كہ تيونس ميں حمكران اور حزب اختلافات كے درميان رواداري كي فضا قائم ہے جس سے تيونس عوام كي پيشرفت اور خوشحالي ظاہر ہوتي ہے.

ولايتي نے بتايا كہ اس وقت تيونس ميں مضبوط جمہوري نظام قائم ہے اور وہاں انسداد دہشتگردي كي مہم كامياب ہوئي جس سے ہميں تيونس كے عوام اور ثقافت كي پيشرفت نظر آتي ہے.

خطے كي تشويشناك صورتحال اور دہشتگرد گروہوں كي كاروائيوں كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے مزيد كہا كہ امريكہ اور مغربي ممالك علاقائي اسلامي ملكوں كے خلاف مضموم سازش كر رہے ہيں اور ان كے پروگرام كے مطابق وہ شام چار حصوں، عراق كو تين اور يمن كو دو حصوں ميں تقسيم كرنے كي سازش كر رہے ہيں.

انہوں نے كہا كہ اسلامي ممالك كو تقسيم كرنا خطرناك سازش ہے اور امريكہ اور اسرائيل اس شيطاني سازش كے ذريعے مسلمانوں كے درميان اختلافات اور كشيدگي كي فضا قائم كرنا چاہتے ہيں.

اس ملاقات كے دوران تيونس كي سنئير ركن پارليمنٹ مباركہ البراہمي دورہ ايران پر مسرت كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ اسلامي انقلاب كے بعد خاص طور پر جنگ اور عالمي دباؤ كے باوجود ايران كي پيشرفت قابل قدر ہے.

خطے ميں اسلامي جمہوريہ ايران كے اہم كردار كا حوالہ ديتے ہوئے انہوں نے مزيد كہا كہ علاقائي اور عالمي مسائل كے لئے ايران كے كردار كو نظرانداز نہيں كرسكتے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲