6 نومبر 2016 - 14:22
عراقی فوج شمالی سیکٹر سے موصل میں داخل، جنوب سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات

عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوان شمالی سیکٹر سے موصل کے رہائشی علاقے میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ جنوب کی جانب سے شہر سے صرف چار کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بغداد میں عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوان داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران شمالی موصل کے اولین رہائشی علاقے ، السادہ بعویزہ میں داخل ہوگئے ہیں۔نینوا آپریشن کے کمانڈر عبدالامیر رشید یاراللہ نے بتایا ہے کہ عراقی فوج نے رزاقیہ ٹاؤن کو داعشی دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے اورعلاقے میں اپنے مورچے مستحکم کر رہی ہے۔

ادھر عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے موصل کے مغرب میں تیرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سحاجی نامی علاقے کو آزاد کرا لیا ہے اور العدایہ کے قریب مورچے سنبھال لیے ہیں۔ عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے مغربی موصل کے شہر محلبیہ کی جانب سے دہشت گردوں کی سپلائی لائن کاٹ دی ہے اور تلعفر شہر سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات ہیں۔ عوامی رضاکا فورس کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ تلعفر شہر ہمارا اگلا ہدف ہے اور ہم شام اور عراق کے درمیان دہشت گردوں کے ہر قسم کے رابطے کو منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ادھر اطلاعات ہیں کہ عراقی فوج جنوب کی جانب سے پیشقدمی کرتے ہوئے شہر موصل سے صرف چار کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گئی ہے۔

عراقی پولیس کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل شاکر جودت نے کہا ہے کہ عراقی فوج جنوبی سیکٹر سے پیشقدمی کرتے ہوئے موصل سے صرف چار کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گئی ہے اور شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب پیشقدمی کر رہی ہے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ دہشت گرد گروہ داعش، موصل میں عراقی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے، بچوں اور کم عمر کے لڑکوں کو خودکش جیکٹیں پہنا کر انہیں شہر کے گلی کوچوں اور گھروں میں تعینات کر رہا ہے۔ داعش نے عراقی فوج کے شہر میں داخل ہونے اور دہشت گردوں کے صفائے کی کارروائی شروع ہونے کے بعد ان بچوں اور نوجوانوں کو دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

عراقی فوج کے کمانڈر محمد الموصلی نے بتایا ہے کہ مشرقی موصل کے مقابلے میں مغربی موصل میں گنجان آبادی کے سبب آپریشن میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کی جان کا تحفظ عراقی فوج اور دیگر سیکورٹی اداروں کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد خودکش بمبار بچوں کے علاوہ دھماکہ خیز مواد کے حامل کتوں اور دیگر حیوانات کو عراقی فوج کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس اور کرد پیش مرگہ ملیشیا کے جوانوں نے بیس روز سے جاری مشترکہ آپریشن کے دوران موصل کے نواح میں واقع ایک سو اسی کے قریب قصبوں اور دیہات کو داعش کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲