اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ افغانستان کے بارے میں امریکہ دعوی کرتا ہے کہ اس نے امن قائم کر دیا ہے اور اسکی پالیسی کامیاب ہے لیکن درحقیقت اس کی مکروہ ترین امن پالیسی افغانستان سمیت تمام دنیا بھرمیں انسانوں کے قتل عام اور انتشار و اختلاف کا سبب بنی ہوئی ہے.
افغانستان میں امریکی امن پالیسیوں کے تحت صوبے قندوز میں نیٹو طیاروں کے میزائیل حملے کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت 50 عام شہری جاں بحق جبکہ قریبا 100 زخمی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق فضائی حملہ طالبان کے حملے کے بعد کیا گیا جس کے نتیجے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین اور حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے گورنر آفس کے باہر بچوں کی میتوں کے ہمراہ مظاہرہ کیا۔
دوسری طرف نیٹو حکام نے قندوز پر نیٹو فضائی حملے کو تسلیم کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ قندوز میں حملہ افغان فورسز کے دفاع میں کیا گیا ہے جبکہ فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی جائیں گی۔
اس زمرے میں افغانستان کے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ اس وقت کیا گیا جب طالبان شوریٰ کا اجلاس جاری تھا۔
واضح رہے کہ غیرملکی میڈیانے دعوی کیا ہے کہ نیٹو کے اس حملے میں مرنیوالے تمام افراد عام شہری ہیں۔
پولیس ترجمان محمود اللہ اکبری نے کہا کہ جب اتحادی افواج نے انہیں نشانہ بنایا تو شہری اپنے گھروں میں سو رہے تھے جبکہ ہلاک ہونے میں 3 ماہ کے شیرخوار سمیت متعدد بچے بھی شامل ہیں۔
امریکہ کا دعوی ہے کہ افغانستان سمیت دنیا بھر میں امن قائم کردیا ہے اور دنیا کے کونے کونے میں دہشت گردوں کو چن چن کے مار دیا ہے۔
کیا یہ ان دہشت گردوں کی تصاویر ہیں جنہیں بقول امریکہ، افغانستان میں قیام امن کی خاطرماردیا ہے؟







یاد رہے امریکہ شام، عراق، افغانستان، یمن، اور فلسطین سمیت دنیا بھر میں بچوں اور خواتین کے قاتلوں کی حمایت کررہا ہے اور دوسری طرف خِود ڈرون حملوں کے ذریعے دنیا بھر میں لاتعداد بے گناہ انسانوں کو خاک خون میں غلطاں کرچکا ہے اور یہ بند نہ ہونے والا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲