اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران دو درجن سے زائد اسکولوں کو نامعلوم افراد کی طرف سے نذر آتش کیا جا چکا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ یہاں اس پیمانے پر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جولائی میں یہاں ایک کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شدید مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں بھی ایک سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے تین اسکولوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقع کے بعد جموں و کشمیر کی عدالت عالیہ نے ریاستی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اسکولوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ "تعلیم کے دشمنوں کو بے نقاب کرے " اور ان سے "آہنی ہاتھ" سے نمٹے۔
لیکن بظاہر اس بات کے تاحال کوئی واضح شواہد حاصل نہیں ہو سکے ہیں کہ دس مختلف اضلاع میں اسکولوں کی تباہی میں کون ملوث ہے۔
ان میں سے چند اسکول مکمل طور پر تباہی ہو گئے ہیں جب کہ آتشزنی سے بعض جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے کچھ مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے لیکن تاحال اس پر کسی کو موردالزام نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات میں اس وقت اضافہ ہوا جب حکومت نے انھیں دوبارہ کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ طویل عرصے سے بندش کے باوجود امتحانات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔
پہلے پہل یہ اسکول بھارتی کشمیر میں عائد کرفیو کی وجہ سے بند تھے لیکن بعد میں ہڑتالوں کی کال اور کشیدہ صورتحال کی وجہ سے یہاں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔
.......
/169