اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ یورپ میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی کاروائیوں سے بھی مغربی سیاست دان اپنی غلط پالیسیوں سے باز نہیں آئے اور وہ دہشتگردوں کی حمایت جاری رکھتے ہوئے اپنے شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں.
يہ بات ايڈميرل 'علي شمخاني' نے گزشتہ روز ايران كے دورے پر آئے ہوئے قبرص پارليمينٹ كے اسپيكر 'ڈيميٹريس سيلوريس' كيساتھ ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ آج دہشت گردي كا مسئلہ جغرافيائي حدود تك محدود نہيں ہے اور يمن اور شام كے عوام آج مشكل صورتحال كا سامنا آتے ہيں اور ان كو انساني بنيادوں پر امداد فراہم كرنا ضروري ہے.
رہبر معظم انقلاب كے نمائندے نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران بين الاقوامي تنظيموں كيساتھ ان ممالك كے لوگوں كو انساني امداد بھيجنے كے لئے تعاون كرنے كا تيار ہے.
شمخاني نے كہا كہ آج عراق اور شام كي صورتحال واضح كرتا ہے كہ كس ممالك دہشتگردي كي موجودگي اور تسلسل سے فائدہ اٹھا رہے ہيں اور ان ممالك دہشت گردوں كو ہتھيار اور پيسہ بھيجنے كيساتھ خطے ميں عدم استحكام پر كوشش كر رہے ہيں.
انہوں نے كہا كہ يورپي ملكوں كو جوہري معاہدے كے نفاذ كے بعد امريكہ كے سامراجي اور غير منطقي مطالبات كو سنجيدہ طريقے سے مقابلہ كرنا چاہئيے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ دونوں ممالك كو دہشت گردي كے پھيلاؤ كے خلاف اور اس سے مقابلہ كرنا چاہئيے.
قبرص كے پارليمينٹ اسپيكر نے كہا كہ ايران خطے ميں دہشت گردي سے مقابلہ كرنے ميں اہم كردار ادا كر رہا ہے اور ہميں اميد ہے كہ اس دورے پر قبرص اورايران كے تعلقات كو بہتر بنا جائے گا.
انہوں نے كہا كہ ايران اور P5 + 1 ممالك كے جوہري مذاكرات بين الاقوامي برادري كے لئے ايك بڑي كاميابي ہے اور اس معاہدے كے نفاذ كيساتھ تعاون كي ترقي اور مواقع كا فائدہ اٹھانے كيلئے اچھي فضا قائم ہوگا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲