اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلام آباد( )ملت تشیع کے علما و اکابرین کی شہریت کی معطلی، بے جا گرفتاریوں اورحکومت کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام گزشتہ روز ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے جن کی قیادت مرکزی و صوبائی قائدین نے کی۔
مقررین نے اپنے خطابات میں ملت تشیع کے خلاف حکومت کی انتقامی کاروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہاکہ ملت تشیع کے خلاف مختلف حکومتی اداروں کے غیر معمولی اقدامات تشویش کا باعث ہیں۔ حکومت ملک کے پُرامن اور محب وطن طبقے کے خلاف محض اس لیے سرگرم ہے کہ وہ حکومت کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی آواز مسلسل بلند کیے ہوئے ہے۔
حکومت کا یہ متعصبانہ طرز عمل جمہوری روایات کے برعکس ہے۔حکومت کے اس غیر جمہوری رویے اور انتقامی حربوں کے خلاف آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اس ملک کی سالمیت و بقا کے لیے ملت تشیع اپنے ذمہ دارانہ کردار کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا فعال سماجی شخصیات اور اتحاد و اخوت کے داعی اہل تشیع علما کی گرفتاریاں اور شہریت کی معطلی ان تکفیری گروہوں کو خوشنودی کے لیے کی جا رہی ہیں جو ملت تشیع کو اپنے ملک دشمن عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔مادر وطن کے دشمن ہمیں سرنگوں نہیں کر سکتے۔بے جا گرفتاریوں اور حکومتی جبر کو راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ضرب عضب کے آغاز سے بھی قبل مجلس وحدت مسلمین وہ واحد جماعت تھی جس نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ہم نے نیشنل ایکشن پلان کی ہمیشہ مکمل حمایت کی ہے لیکن بدقسمتی سے نیپ کا رُخ دہشت گردوں کی طرف موڑنے کی بجائے محب وطن شخصیات کی طرف موڑ دیا گیا تاکہ بے یقینی اور مایوسی کو تقویت دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عزاداری کی بقا اور قوم کے ہر فرد کے حقوق کا دفاع ہمارا اصولی موقف ہے جس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔حکومت ملت تشیع کو دیوار سے لگانے کی بے سود کوشش کر رہی ہے ۔اپنے آئینی حقوق کے لیے ہم ہمیشہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲