اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کی سہ پہر ایران کے شہر اراک میں مرکزی صوبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے اجلاس میں خاص طور پر ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کی ترقی و پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایک اہم ترین ہدف، دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بینکنگ تعلقات کو معمول پر لانا ہے تاکہ اقتصادی سرگرمیوں کے لیے حالات مکمل طور پر آمادہ ہوں۔
صدر مملکت نے پابندیوں سے قبل ایران کی تیل کی پیداوار کی سطح تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تیل کی قیمت کے سخت حالات میں تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک میں سے بہترین اقتصادی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ امن و امان کی بہترین صورت حال، نوجوانوں کی استعداد و قابلیت، بےمثال جغرافیائی محل وقوع اور توانائی کے ذخائر اور معدنی ذخائر نے ایران کی اقتصادی ترقی و پیشرفت کے لیے تمام حالات فراہم کر دیے ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اسی طرح اتوار کی سہ پہر مرکزی صوبے کے علما اور ممتاز شخصیات اور دانشوروں سے بھی ملاقات کی۔ انھوں نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے ساتھ تعمیری تعاون اصول کی حفاظت کے ساتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم کہتے ہیں ہمیں دنیا کے ساتھ تعمیری تعاون کرنا چاہیے تو یہ دین، ثقافت، اخلاق اور ہمارے انقلاب کو باقی رکھنے کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعاون ملک کی ترقی کے لیے ہے اور ہمیں ٹیکنالوجی کو جدید بنانا چاہیے۔ انھوں نے ایٹمی معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یورپیوں کی آنکھوں کے عاشق نہیں تھے، ہم نے اقتصادی میدان کو کھولنے کے لیے کوشش کی کہ جو شرعی اور دینی فریضہ ہے۔
صدر مملکت نے امام خمینی رحمت اللہ علیہ سمیت عظیم علما اور دانشوروں کے وجود اور صنعت و علم کے میدان میں مرکزی صوبے کے اہم اور اسٹریٹیجک مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی (رح) نے ہمیں یہ اہم سبق سکھایا کہ کس طرح آہنی ارادے سے عظیم تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169