اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ کا ایک نہایت خوبصورت جوان ’’علاء حسن نجمہ‘‘ شام میں اسلامی مقامات کی حفاظت کرتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہو گیا۔
اسلامی مزاحمت کی ایک ویب سائٹ نے اس جوان کی شہادت پر ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ جوان سماجی مقبولیت اور اپنی خوبصورتی کی بنا پر ایک فلمی اداکار بن سکتا تھا لیکن اس نے جہاد اور شہادت کا راستہ انتخاب کیا۔
اس ویب سائٹ کی رپورٹ کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
علاء نجمہ، (لقب تراب الحسین) لبنان کے شہر عدلون میں پیدا ہوا، شہر عدلون اور خرایب میں اس نے اپنی زندگی کی چند بہاریں گزاریں لیکن چونکہ یہ دونوں شہر جہاد اور مزاحمت کی تربیت گاہ تھے اس وجہ سے ان شہروں نے علاء نجمہ کو بھی جہاد اور شہادت کا عاشق بنا دیا۔
اگر چہ اس نے یتیمی کی زندگی گزاری لیکن اس کی زندگی پر یتیمی کا سایہ نہیں چھایا، وہ زندہ دل، پاکیزہ انسان، پسندیدہ اور بڑے دل والا جوان تھا۔ اس نے ٹھوس ایمان اور پوری امید سے زندگی گزاری۔ اس کے اتنے زیادہ دوست تھے کہ بقول اسی کے ایک دوست کے، ’’علاء نجمہ کے دوستوں کا تو ایک شہر ہے‘‘ اور وہ اپنے دوستوں کے نزدیک محبوب ترین دوست تھا۔
علاء نجمہ فوٹوگرافی، ڈرائنگ، اداکاری اور ہدایت کاری کو دوست رکھتا تھا۔ اگر جہاد اور شہادت کا عاشق نہ بنتا شاید وہ اپنی بے نظیر خوبصورتی کی بنا پر آج لبنان کا ایک فلمی سٹار ہوتا اور تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہوتا لیکن ’’تراب الحسین‘‘ کہ جس کے لقب سے ہی شہادت کی خشبو آتی ہے، نے جہاد اور مزاحمت کا راستہ اختیار کر کے دنیا کی رنگینیوں سے منہ موڑ لیا۔
وہ اگر چہ عمر میں کم تھا لیکن میدان جنگ کا شہ سوار تھا اور اپنے دوسرے مجاہد بھائیوں کی طرح جاں کو ہتھیلی پر رکھ کر میدان کارزار میں قدم رکھتا تھا۔
اس نے اپنی شہادت سے چند دن پہلے فیسبوک کے اپنے ذاتی پیج پر ایک دلسوز جملہ لکھا:’’ اپنے آنسوؤں کو بہنے کے لیے تیار کر لو‘‘۔ نہیں معلوم اس نے یہ جملہ عاشورائے حسینی کے استقبال میں لکھا یا اپنی شہادت کی تیاری میں۔ وہ ایسا مجاہد تھا جس نے اپنی جوانی کو شہادت کے لیے ہی وقف کر دیا تھا۔
آج اس کی تدفین پر اس کے تمام دوست آئے تمام سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر شائع کی گئیں اور تبریک و تسلیت کے پیغامات ایک دوسرے کو بھیجے گئے۔۔۔
شہید نجمہ کا جلوس جنازہ جمعرات کو اس کے آبائی وطن شہر عدلون میں نکالا گیا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کڑیل جوان کے تشییع جنازہ میں اس کی ماں نے حیرت انگیز طریقے سے شرکت کی اور اپنے جوان بیٹے کو الوداع کیا وہ ماں جس کی یہ تمنا تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو دلہا بنتے دیکھے اور اس کی شادی میں خوشیاں منائے سفید لباس پہن کر آج اس کی میت کو دفنانے آئی اور شادیوں کے قابل جواںوں کے ماؤوں کو یہ پیغام دے گئی کہ دیکھو اپنے جوانوں کو دلہا بناتے وقت اپنے جوان کو بھی یاد کر لینا جس نے روضہ حضرت زینب(ع) کی حفاظت میں اپنی جوانی کو حضرت علی اکبر کی جوانی پر نثار کر دیا۔۔۔













۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲