15 اکتوبر 2016 - 17:17
علاقے کی طاقتور ریاستیں ہی بحران شام کو حل کر سکتی ہیں: مصری تجزیہ نگار

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ یا سعودی عرب ،قطر ،ایران اورشام وترکی پانچ سالہ بحران شام کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں معروف مصری تجزیہ نگار’’حازم سلیم ‘‘ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ علاقے کی طاقتور ریاستیں امریکہ اور روس سے کئی زیادہ بحران شام کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ یا سعودی عرب ،قطر ،ایران اورشام وترکی پانچ سالہ بحران شام کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شامی تنازعہ کو حل کرنے کے غرض سے سوئیزرلینڈ کے شہر لوزان میں ایران ،روس ،امریکہ ،ترکی ،سعودی عرب ،عراق ،مصر اورقطر کے وزراء خارجہ کا اجلاس ہورہا ہے ۔

انہوں نےکہا کہ لوزان میں شام پر منعقدہ کانفرنس کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں اگر شام،عراق ،ایران ،ترکی ،سعودی عرب ،قطر ، شام میں تشددکو روکنے اورمذاکرات کے ذریعے بحران کو ختم کرنے کے ایک مشترکہ نقطے پر پہنچتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اب جبکہ روس اورامریکہ شامی تنازعہ کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لئے علاقائی ممالک کومرحلہ وار طریقے سے شامی عوام تک انسان دوستانہ امداد پہنچانے اور جزوی  جنگ بندی شروع کرنے کی اقدامات کی پہل کرنی چاہئے۔

اسی طرح کے بیان میں امریکی پروفیسر ڈینیل سرور نے شامی بحران کو حل کرنے کی بین الاقوامی سطح پر کی جارہی  کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ شامی تنازعہ کےحل ہونے کےابھی کسی بھی طرح کے امکانات موجود نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دفترخارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ لوزان اجلاس میں وزیر خارجہ محمد جوادظریف شرکت کررہے ہیں۔

واضح رہےکہ شام کو سن دوہزار گیارہ سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں۔ دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲