اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سنئیر ایرانی سفارتکار اور مصر میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر تحفظ مفادات کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ مصر اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اختلافات گہرے ہیں جس کی اصل وجہ مصر کے لئے سعودیوں کی امداد میں تعطل ہے.
'مجبتی امانی' نے ہفتے کے روز اپنے ایک مضمون میں مزید کہا کہ سعودی عرب مصر کو امداد دینے میں تاخیر کر رہا ہے اور اس کے ساته مصری حکومت بهی ریاض کی مزید امداد کے لئے لالچ میں آئی ہے جس سے آج دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑه گئے ہیں.
انہوں نے بتایا کہ سعودیوں پر یہ بات واضح ہے کہ وہ مصر کی جتنی بهی امداد کریں یہ ان کے توقعات پر پورا نہیں اترسکتا جبکہ مصر سمجهتا ہے کہ خلیج فارس ممالک کی سلامتی مصری سلامتی کے ساته سے منسلک ہے لہذا سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ مصر کی ہر طرح کی امداد کرے.
ایرانی سفارتکار نے کہا کہ ریاض،قاہرہ اختلافات کی ایک اور وجہ مصر کی جانب سے سعودی بالادستی کر نظرانداز اور اپنی بالادستی قائم کرنا ہے، اور مصر نہیں چاہتا خطی معاملات میں وہ سعودی عرب کے احکامات پر چلے. مصر عربی مسائل میں سعودی عرب کے نقش قدم پہ چلنے سے زیادہ دوسرے عربی ممالک کو دیکهانا چاہتا ہے کہ مصر اپنی آزادی پالیسی اور خودمختار ملک کی حیثیت سے آزاد موقف کی بهی پیروی کرنے کی صلاحیت رکهتا ہے.
انہوں نے بتایا کہ علاقائی مسائل بالخصوص شام، یمن اور عراق کی صورتحال پر مصر اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات، مصری عمائدین اور دانشوروں کی سعودی طرز فکر سے اختلافات، امریکہ اور روس کے مابین مصر کے کهیل اور اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے کے اہم کردار رکهنے والے ملک سمجهنا بهی قاہرہ اور ریاض کے درمیان اختلافات کی مزید وجوہات ہیں.
مجتبی امانی نے مزید کہا کہ سعودیوں نے یہ بات ثابت کردی کہ ان کی پالیسیاں خطے کے لئے جارحانہ انداز رکهتے ہیں اور یہ پالیسی مصر جیسا سات ہزار کی پہنچان رکهنے والا ملک پر کوئی اثر نہیں کرے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲