13 اکتوبر 2016 - 16:43
عاشورہ کے موقع پر دنیا میں کئے گئے عزادروں پر بہیمانہ حملوں کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

عاشورا کے موقع پر دنیا کے بعض ممالک میں عزاداروں کو پرتشدد کاروائیوں کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  یوم عاشور کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں شرپسند افراد نے عزاداران سید الشہداء (ع) کو اپنے بہیمانے اور دھشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا جن کی وجہ سے کئی عزادار شہید اور زخمی ہوئے، اہل بیت عالمی اسمبلی نے ایک بیانیہ جاری کر کے اس تشدد کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیم

«يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون» (صف/ 8)

گویا عاشورائے حسینی کا خون اور شہادت سے ایک گہرا رشتہ ہے، چودہ سو سال گزرنے کے باوجود، ابھی بھی اس دن، کربلا کے مناظر نظر آتے ہیں، یزیدی کردار کے مالک افراد، عاشقان حق و حقیقت کے خون میں اپنا ہاتھ رنگین کرنے سے باز نہیں آتے۔
اس سال بھی تشدد پسند عناصر، اللہ کے نور کی تجلی کو تحمل نہیں کر سکے اور مختلف ملکوں؛ افغانستان، نائیجیریا، عراق اور شام میں عزاداروں کو اپنے بہیمانہ حملوں کا نشانہ بنانے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک غیر سرکاری ادارہ کہ جس کی دنیا بھر میں سینکڑوں چیدہ شخصیات رکن ہیں، ان جرائم کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ، درج ذیل نکات کی طرف دنیا کی توجہ کو مبذول کرانا چاہتی ہے:
۱؛ افغانستان کے شہر کابل اور بلخ میں بے گناہ عزاداروں کا قتل، اس بات کی علامت ہے کہ دھشتگرد اور ان کے حامی عاشورا کی نسبت کبھی نہ ختم ہونے والا بغض اور کینہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام سے مکتب حسینی کی انسان ساز تعلیمات کو بھی نشانہ بنایا اور اسلامی اتحاد کو بھی۔
۲؛ ہم افغانستان کے عوام مخصوصا ان سانحوں کے شہداء کے پسماندگان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس ملک کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اپنے وسیع اقدامات کے ذریعے ان تکفیری دھشتگردوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں جو افغانستان کو بھی دوسرے ممالک کی طرح تکفیری دھشتگردی کا اڈہ بنانا چاہتے ہیں۔
۳: نائیجیریا کے غمناک حادثات کئی سالوں سے مسلسل سامنے آ رہے ہیں اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ انہیں تحمل کرنا بس سے باہر ہو چکا ہے۔ اس ملک کی فوج اپنے تازہ ترین اقدام میں کادونا کے شہر فونتوا میں عزاداران حسینی پر حملہ کر کے کئی عزاداروں کو شہید اور متعدد کو زخمی کر دیتی ہے۔
۴؛ اس تشدد کے حوالے سے، حکومت نائیجیریا سے ہمارا کوئی مطالبہ نہیں، اس لیے کہ یہ اقدامات خود اس ملک کی حکومت براہ راست انجام دے رہی ہے اور نہ صرف حکومت بلکہ حکومت کے پیچھے بھی تکفیری اور وہابی لابی ہے جو حکومت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہی ہے۔
۵؛ ہم بین الاقوامی سماج اور انسانی حقوق تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نائیجیریا حکومت پر دباو ڈالیں تاکہ اس ملک میں شیعوں کے خلاف انجام پانی والی بہیمانہ کاروائیوں کا سد باب ہو سکے اور ان کے عاملین کو ان کے کیفر کردار تک پہنچوائیں۔ نیز حجۃ الاسلام شیخ ابراہیم زکزاکی کہ جو ایک سال سے جیل میں بند ہیں کو آزاد کروائیں۔
۶؛ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس کے ساتھ ساتھ شام کے شہر دمشق اور عراق کے شہر بعقوبہ میں تاسوعا اور عاشورا کی مذہبی رسومات پر کئے جانے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے دنیا کے کونے کونے میں موجود اہل بیت(ع) کے پیروکاروں اور محبان اہل بیت(ع) سے اپیل کرتی ہے کہ اپنے مذہبی پروگراموں کو پوری ہوشیاری کے ساتھ منعقد کریں اور اپنی حفاظت آپ کریں اور عزاداری کے باقی ماندہ ایام میں بھی پوری ہوشیاری کے ساتھ دین اسلام کے احیاء گر اہل بیت اطہار(ع) کے مجاہدانہ کارناموں کی یاد کو تازہ کریں۔
۷: آخر میں، علاقے اور بین الاقوامی سطح پر موثر کردار ادا کرنے والے ذمہ دار افراد کو تکفیری دھشتگردی کا پوری ذمہ داری سے مقابلہ کرنے کی تاکید کرتے ہیں نیز گمراہ اور افراطی گروہوں کے سرغنوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ پھیلانے سے اپنے ہاتھ کھینچ لیں اور بھائی بھائی کا قتل، فتنہ فساد، مقدس مقامات کو مسمار اور مجالس عزا کو نشانہ بنانے سے باز آجائیں اس لیے کہ حسین بن علی نور الہی کی ایک تجلی ہیں اور نور الہی پھونکوں سے بجھنے والا نہیں ہے۔
                                                          اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
                                                             دہم محرم الحرام، ۱۴۳۸

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲