اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں و کشمیر پیروان ولایت کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر نے پریس کے نام ایک بیان میں کہا کہ آٹھویں محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں شامل عزاداروں پر قابض فورسز نے جو اندھا دھند لاٹھیاں برسائی اور کئی عزاداروں کو گرفتار کیا وہ ناقابل برداشت اور مداخلت فی الدین ہے۔ مولانا سبط شبیر نے کہا کہ ایک طرف یہاں کے حکام جمہوریت کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں تو دوسری طرف مذہبی جلوسوں پر پابندی عائد کرکے عزاداروں کو زد و کوب کررہے ہیں۔ مولانا شبیر صاحب نے کہا کہ امرناتھ یاترا دو ماہ تک یہاں جاری رہتی ہے اور اسی طرح غیر اسلامی محفلوں کے لئے ریاستی حکومت کروڑوں روپئے خرچ کرتی ہے لیکن عزاداری کے جلوسوں پر پچھلے ستائیس سالوں سے پابندی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار کے لئے حماقت کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر حتیٰ کہ غیر اسلامی ممالکوں میں عزاداری کے جلوس نہایت جوش و جزبہ اور مذہبی عقیدت کے ساتھ برآمد ہوتے ہیں لیکن یہاں کے مسلمان حکمران طاغوت اور سامراج کی پیروی کرتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ عالمی سطح پر اجاگر کریں۔ مولانا سبط شبیر نے کشمیر میں ہورہے ظلم و جور کے خلاف سخت الفاظ میں مذمت کی اور مسلمانان کشمیر پر زور دیا کہ وہ جلوس عزا میں شامل ہو کر عملی اتحاد کا مظاہرہ کرکے طاغوت اور سامراج کے عزائم کو ناکام بنادیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲