اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ نے مغربی حکومتوں کو انسانی حقوق کے حوالے سے ایران مخالف رویے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران انسداد منشیات مہم کے لئے سالانہ 20 کروڑ ڈالر خرچہ کرتا ہے.
ان خیالات کا اظہار 'محمدجواد لاریجانی' دورہ برازیل کے اختتام پر مشہور برازیلی اخبار 'او ایستادو ساؤ پالو' (O Estado de São Paulo) کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کیا.
اس موقع پر انہوں نے مغربی ممالک کی حکومتوں کو انسانی حقوق کے حوالے سے ایران مخالف روپے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی حکومتیں خود انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ انسانی حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور مغرب کی طرف سے ایران میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شائع کی جانے والی رپورٹس بے بنیاد اور ان کے محرکات سیاسی ہیں.
لاریجانی نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب کے ان اقدامات کے پیچهے سیاسی محرکات ہیں اور بڑے اثر رسوخ رکهنے والے عناصر ان کے پیچهے ہیں.
انہوں نے یہ سوال کیا کہ انسانی حقوق علمدار تنظیمیں دنیا کے مختلف علاقوں میں معصوم لوگوں کی جانوں کی ضیاع پر کیوں خاموش ہیں؟
ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مغربی واویلا کو مسترد کرتے ہوئے محمدجواد لاریجانی نے مزید کہا کہ مغربی ممالک اپنی طرز زندگی ایرانی قوم پر مسلط نہ کریں.
انہوں نے مزید کہا کہ آج مغربی ممالک انسانی حقوق کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق امریکہ اور یورپ کی جاگیر ہے نہ ان کی کوئی پیداکردہ اشیاء.
سنئیر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ انسانی حقوق کو غیرجانبدرانہ پیشرفت اور اس کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس سے جمہوری نظام کو بهی طاقت ملے گی.
انہوں نے کہا کہ ایران میں پهانسیوں کے احکامات کی تعداد زیادہ ہیں مگر ان تمام احکامات پر قوانین کے مطابق عمل کیا جاتا ہے تاہم پهانسی اچهی بات نہیں اور ایران میں 93 فیصد پهانسیوں کی سزائیں منشیات جرائم سے متعلق سنائی جاتی ہیں.
لاریجانی نے کہا کہ وہ ان قوانین میں تبدیلی لانے کی حمایت کرتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران انسداد منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف اپنے عزم کو متاثر ہونے دے گا.
انہوں نے ایران اور افغانستان کیساته موجودہ 800 طویل سرحدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی سربراہی میں غیرملکی افواج کی افغانستان میں آمد کے بعد اس ملک میں افیون کی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲