اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے سری نگر کے پانچ تھانہ علاقوں میں اعلانیہ اور وادی کے دیگر علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر کے اس ہفتے بھی اہم مقامات پر نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی جس پر علیحدگی پسند جماعتوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو دینی امور میں مداخلت قرار دیا ہے- خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اس ہفتے بھی جمعے کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور وادی کی دیگر اہم مساجد اور مرکزی امام بارگاہوں میں نماز جمعہ نہیں ہو سکی- حکام نے سری نگر میں لال چوک کی جانب جانے والے راستوں پر خار دار تارلگا کر لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی جبکہ سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں سیکورٹی فورس کی بھاری نفری تعینات کر دی- علیحدگی پسند جماعتوں نے لوگوں سے نماز جمعہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ شام چھے بجے لال چوک کی جانب مارچ اور وہاں جلسہ کرنے کی اپیل کی تھی- سری نگر سے ہمارے نمائندے نے بتایا کہ وادی کے دیگر شہروں کے محلوں کی مساجد میں لوگوں نے نماز جمعہ ادا کی اور اس کے بعد سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے- سری نگر کے مضافاتی علاقوں کے محلوں میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد لوگوں نے لال چوک کی جانب مارچ کرنے کی کوشش جسے سیکورٹی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا- اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں- اس درمیان حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں حالات پرامن رہے اور کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا- یاد رہے کہ وادی میں گذشتہ چوراسی روز سے جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران نوے سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ تقریبا چودہ ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں- ہڑتال کے باعث معمولات زندگی بھی بری طرح مفلوج ہیں- علیحدگی پسند جماعتوں نے آئندہ چھے اکتوبر تک مظاہروں اور ہڑتالوں کی کال کا دائرہ بڑھا دیا ہے- دوسری جانب لائن آف کنٹرول کے قریب آباد لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پایا جا رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ لائن آف کنٹرول کے آس پاس کے علاقوں میں اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر جا رہے ہیں- ہندوستان نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل آپریشن کر کے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ اس بیان کے بعد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی سرحدی آبادی میں پاکستان کی ممکنہ جوابی کارروائی کو لے کر خوف و ہراس پیدا ہو گیا اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے- سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں سے لے کر اڑی تک کے سرحدی علاقوں میں آباد تیس ہزار سے زائد لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے- سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کے لئے مختلف علاقوں میں اسکول، کالج اور سرکاری عمارتوں کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔
/169