30 ستمبر 2016 - 14:34
مرکزی امام باڑہ بڈگام سے نمازجمعہ کے بعد احتجاجی جلوس برآمد

آغاصاحب نے کہاکہ جنگی جنون اور پاکستان کو ڈرانے دھمکانے سے بھارت تنازعہ کشمیر سے دامن نہیں چھڑا سکتا اور نہ ہی کشمیری عوام اپنی جائزجدوجہد سے دست بردار ہونگے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر// جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے بھارت کی طرف سے بے بنیاد سرجکل سٹرائک کے شوشہ کو کشمیر کی سنگین صورتحال سے اقوام عالم اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک سعی ناکام سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت LOC پر تناوپیدا کرکے کشمیریوں کی ہمہ گیر احتجاجی تحریک اور نہتے عوام پر سرکاری فورسز کی جبرو جارحیت کے نتیجے میں عالمی سطح پر بڑھ رہی تشویش کا رُخ موڑنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ پاکستان 1965 اور 1971 سے بالکل مختلف ہے اور اگر تنازعہ کشمیر پر ہندپاک کے درمیان کوئی اور فوجی تصادم ہوا تو دونوں ممالک پتھر کے زمانے میں پہنچ جائیں گے، اورعوام کو صدیوں تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا لہٰذا دونوں ممالک خطے میں انسانیت کے وسیع ترین مفاد میں تنازعہ کشمیرکوپُر امن طور پر حل کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ آغاصاحب نے کہاکہ جنگی جنون اور پاکستان کو ڈرانے دھمکانے سے بھارت تنازعہ کشمیر سے دامن نہیں چھڑا سکتا اور نہ ہی کشمیری عوام اپنی جائزجدوجہد سے دست بردار ہونگے۔ امن واستحکام کا واحد راستہ نتیجہ خیز مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔ پُر خطر اور موجودہ غیر یقینی صورتحال کا تقاضا ہے کہ بھارت عسکری دبدبہ کے بجائے مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کشمیری عوام اور پاکستان کے مفاہمانہ جذبات اور تنازعہ کے حتمی حل کی پُر خلوص خواہش کامثبت جواب دیں۔آغا صاحب نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کی 70 سالہ رسہ کشی اور حالات و حادثات اور تجربات نے ثابت کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ہند پاک تعلقات کا کوئی مستقبل نہیں۔ دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی 84 روز سے مسلسل خانہ نظر بندی اور بارہویں جمعہ کو بھی موصوف کو مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیشوائی سے محروم رکھنے کی حکومتی کاروائی کی پُر زور مذمت کی ۔ادھر مرکزی امام باڑہ بڈگام سے نماز جمعہ کے بعد انجمن شرعی شیعیان کے سینکڑوں کاکنوں نے آزادی کے حق میں احتجاجی جلوس نکالا۔جو ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس پر پُر امن طور پر اختتام پذیر ہوا۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲