اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی کے سابق کمانڈر اور تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا اور علاقے کی موجودہ صورتحال اور سامراجی وصیہونی محاذ بندی کے باجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے سامراج کا ناطقہ مکمل طورسے بند کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے ایران کے جنوبی علاقے " بوشہر" میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈروں اور صوبائی عہدیداروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سامراج، صیہونزم، اور مغرب کے سرمایا دارانہ نظام نے گذشتہ ستر برسوں کے دوران ایک ایسی سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے کہ جس کے ذریعے عالم اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے، اسلام کے پیکر میں خون رسانی کا کام کرنے والے مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ، مدینہ، بیت المقدس، اور کربلا کو دنیائے اسلام سے جدا کردیا جائے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ عالمی سامراجی طاقتوں نے صیہونی حکومت کی تشکیل کے ذریعے قدس شریف پر قبضہ کرلیا اور وہابیت کو پروان چڑھایا تاکہ "نیل سے فرات تک" کے صیہونیوں کے دیرینہ خواب کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے صیہونزم، وہابیت اور امریکا کو ہلاکر رکھ دیا۔ انہوں نے ایران کے خلاف صدام کی آٹھ سالہ جنگ کو امریکا اسرائیل اور سعودی عرب کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ قراردیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب نے امریکا کی سازشوں پر پانی پھیر دیا اوراس دوران انہوں نے جتنی بھی سازشیں تیار کی تھیں ان سب کوایران نے ناکام بنادیا۔ تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے جنوبی لبنان اور غزہ پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ان حملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کا کام تمام ہوچکا ہے اور اس کی فوج میں کسی قسم کا کوئی دم خم نہیں ہے۔
.....
/169