اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اور اعلی امن کونسل کے نمائندوں نیز افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔
اس معاہدے کی رو سے حکومت افغانستان ، حکمت یار اور ان کے دیگر ساتھیوں کو قانونی تحفظ دے گی اور انہیں ہرطرح کی قانونی کاروائی سے استثنی حاصل ہوگا۔
اس کےعلاوہ افغانستان کی حکومت ، اقوام متحدہ سے یہ درخواست کرے گی کہ حزب اسلامی کا نام دہشتگرد گروہوں کی فہرست سے نکال دے اور حزب اسلامی کے رکن پورے ملک میں جہاں چاہیں آزادانہ زندگی گذار سکتے ہیں اور سیاسی سرگرمیوں نیز انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
اس معاہدے کی رو سے حکمت یار افغانستان کے دو یا تین علاقوں میں اپنا دفتر قائم کرسکتے ہیں اور انہیں اپنی فوجی شاخ کو تحلیل کرنا ہوگا اور ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے افغانستان میں کام کرنا ہوگا۔
اس معاہدے کی رو سے حکمت یار کی پارٹی کسی بھی دہشتگرد گروہ سے تعلقات نہیں رکھے گی اور ان کی سرگرمیوں کی حمایت بھی نہیں کرے گی۔
حکمت یار کی حزب اسلامی، حکومت کابل کے یرغمالیوں کو عنقریب رہا کردے گی اور افغانستان کی ارضی سالمیت کے دفاع اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے نیز قومی اتحاد کو مستحکم کرنے کے لئے حکومت سے تعاون کرےگی۔
حکمت یار کی حزب اسلامی، حکومت افغانستان کی مخالف پارٹیوں میں شمار ہوتی تھی۔ یہ پارٹی گذشتہ پندرہ برس سے بیرونی افواج اور افغان فوج سے لڑتی آرہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169