15 جون 2016 - 16:19
جوہری معاہدہ اگر بیہودہ ہوتا تو نیتن یاہو اس کی حمایت کرتا: سابق وزیر داخلہ

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ اگر جوہري معاہدے كوئي منفي اقدام ہوتا تو سپريم ليڈر اور پارليمنٹ كي حمايت نہ كرتے. اس كا مطلب ہے جوہري معاہدے سے ايران كو فائدہ ملا ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سابق ایرانی وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدہ اگر بُرا اور ایک بیہودہ اقدام ہوتا تو ناجائز صہیونی ریاست کا سرغنہ نیتن یاہو اس کی تعریف اور حمایت کرتا بالخصوص امریکہ میں موجود انتہا پسند حلقے اور صہیونی لابی بھی اس چیز کی سرپرستی کرتے.

ان خيالات كا اظہار سابق ركن پارليمنٹ اور اسلامي جمہوريہ ايران كے سابق وزير داخلہ 'عبدالواحد موسوي لاري' نے ارنا كے نمائندے كے ساتھ خصوصي گفتگو كرتے ہوئے كيا.

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ اگر جوہري معاہدے كوئي منفي اقدام ہوتا تو سپريم ليڈر اور پارليمنٹ كي حمايت نہ كرتے. اس كا مطلب ہے جوہري معاہدے سے ايران كو فائدہ ملا ہے.

انہوں نے مزيد كہا كہ جوہري معاہدے سے پہلے اگر كوئي مالي لين دين كرنا چاہتے تھے تو پابنديوں سے بچنے كيلئے ايران كو متعدد طريقوں كا چكر لگانا ہوتا تھا مگر اب مالي اور بينكنگ امور كے حوالے سے پيشرفت ہوئي ہے.

سابق وزير داخلہ نے كہا كہ اس وقت بھارت ايران كا ۷ ارب ڈالر نادہندہ ہے، بھارتي وزيراعظم كا حاليہ دورہ ايران كا اصل مقصد يہي كہ اب ايران كيخلاف كوئي پابندي عائد نہيں اور بھارت كو ايران كے پيسے واپس كرنا پڑے گا مگر چونكہ بھارت كو اتنا بڑا رقم اكھٹا نہيں دے سكتا تو وہ ايران سے مزيد وقت لينے كا خواہش مند ہے، بھارت سميت مختلف ممالك چاہتے ہيں كہ ايران كے ساتھ دوطرفہ تعلقات كو مزيد فروغ ديں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲