اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
آل سعود کے امریکہ کے ساتھ عمیق روابط پر تاکید
سعودی بادشاہ سلمان بن عبد العزیز نے امریکی کانگریس کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات میں آل سعود کے وائٹ ہاوس کے ساتھ گہرے روابط پر زور دیا ۔
ریاض کے الیمامہ قصر میں کل سہ پہر کو ریاست ماساچوسٹ کے سینیٹر بنیامین کارڈن کی قیادت میں امریکی کانگریس کے ایک وفد نے سعودی بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کے ساتھ ملاقات کی ۔
عکاظ کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں سعودی بادشاہی اور امریکہ کی دوستی اور دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا ۔
امریکی وفد نے سعودی ولیعہد اور وزیر داخلہ محمد بن نایف کے ساتھ بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات اور آپسی تعاون جیسے مسائل منجملہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی ۔
بن سلمان نے طاقت اور ثروت کے تمام ارکان پر قبضہ جما رکھا ہے
حکومت کے تمام ارکان کو مکمل طور پر اپنی مٹھی میں لینے کی ولی عہد کے جانشین محمد بن سلمان کی سیاسی جد و جہد کو آگے بڑھانے کے پیش نظر کہ تجزیہ نگاروں کے بقول جس کے لیے اس نے دن رات ایک کر رکھا ہے گینہ کے صدر آلفا کونڈی کے ساتھ ملاقات کی اور اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان آپسی تعاون کے مشترکہ مسائل کا جائزہ لیا گیا ۔
بن سلمان نے سیاسی اور ڈیپلومیسی کے امور پر قبضہ جمانے کے علاوہ اور وزیر خارجہ عادل الجبیر اور ولی عہد محمد بن نایف کو ایک طرف کرنے کے بعد اقتصادی مسائل میں بھی فعالیت شروع کر دی ہے اور شورائ امور اقتصادی نام کی کمیٹی کو بھی اپنی مٹھی میں بند کر لیا ہے ،اس نے اس شوری کی بیٹھک میں اقتصادی مسائل کا جائزہ لیا ۔
بن سلمان کو سعودیہ کا ابوالمشاغل کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ وزیر دفاع بھی ہے وزراء کی قابینہ کا نایب بھی ہے اور اقتصادی اور ترقی کے امور کی شوری کا سربراہ بھی ہے ۔
بن سمان نے امریکی کانگریس کے وفد کے ساتھ ملاقات کی جس میں امریکہ اور آل سعود کے تعلقات کو بڑھاوا دینے کے طریقوں کے بارے میں جائزہ لیا گیا۔
سعودیوں کے جوہری شہر کے ناکارہ ہونے پر تنقید
سعودیہ کی مجلس مشاورت کے رکن صدقہ فاضل نے اس ملک کے جوہری توانائی کے شہر کی کارکردگی کے بارے میں ماحولیات، کھیتی باڑی اور پانی کی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا اور کہا کہ اس شہر نے ایک ایٹمی پلانٹ بھی نہیں بنایا ہے ۔
آل سعود کے ایٹمی کلاہک سے فائدہ اٹھانے کی افواہ
عکاظ نے لکھا ہے کہ مجلس مشاورت کے رکن صدقہ فاضل نے بتایا کہ حال ہی میں یہ افواہ اڑی تھی کہ سعودیہ کے باشاہ کے پاس اٹمی ہتھیار ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے ۔
اس نے مزید کہا : میں پہلے یہ کہتا تھا کہ ملک عبد اللہ نام کا جوہری شہر ترقی یافتہ جوہری تنصیبات بنانے کا اقدام کرے گا لیکن اب تک صرف امریکہ ،روس فرانس ،چین اور جنوبی کوریا کے ساتھ سمجھوتے ہی ہو پائے ہیں عملی طور پر کوئی بھی جوہری پلانٹ تیار نہیں کیا گیا ہے ۔
اس نے کہا طے یہ تھا کہ جب جوہری پلانٹ تیار ہو جائے گا تو اس سے سعودیہ کو ۳۰ فیصد بجلی ملے گی اور ۲۰ فیصد تصفیہ شدہ پانی نصیب ہو گا لیکن یہ خوا ب شرمندہء تعبیر نہ ہوا ۔
نجران میں خون کی تجارت
نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق عکاظ نے خبر دی ہے کہ نجران کے علاقے میں خون کی تجارت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں ۔
اس روزنامے نے لکھا ہے کہ شہزادہ جلوی بن عبد العزیز بن مساعد آل سعود نے علاقے میں قتل اور دیت جیسے مسائل کے لیے سخت قوانین پاس کیے ہیں ۔
عکاظ نے مزید کہا کہ یہ قوانین دیت کے بہانے تجارت کو روکنے اور خون کے دلالوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہیں اس لیے کہ سعودی عرب میں دیت کی رقم بھیانک صورتحال اختیار کر گئی ہے ۔
سعودی عرب میں تشدد میں تسلسل
سعودی عرب کے عوام میں تشدد اس قدر رچ بس گیا ہے کہ جس کو کنٹرول کرنے کے لیے حکام آل سعودبڑے پیمانے پر جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کی جگہ معافی اور در گذر کرنے کی ثقافت کو عام کرنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا ہے ،عکاظ نے لکھا ہے اصلاح کمیٹی کوشش کر رہی ہے کہ معاشرے کے افراد کے درمیان معافی اور در گذر کرنے کی ثقافت کو رائج کیا جائے ۔
ایک اور پیچیدہ مسئلہ ؛ سعودی عرب میں خون کے دلالوں کے بارے میں انتباہ
سعودیہ کی عدالت عالیہ کے استاد ہشام عبد الملک آل الشیخ نے خون کے دلالوں کی کارستانیوں اور ان لوگوں کے بارے میں کہ جو بقولے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں خبر دار کیا ہے ۔
اس کے بقول بعض لوگ خون کی تجارت کرتے ہیں اس طرح کہ قاتلوں کے وراث ان سے رابطہ کرتے ہیں اور کچھ پیسے دے کر ان سے کہتے ہیں کہ دیت کی رقم کم کروانے کے لیے بچولیے کا کام کریں ۔
سعودی عرب میں مقتولین کے گھر والے دیت کی طے شدہ رقم سے زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور بھاری رقم لے کر ہی معاف کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ سعودی سماج کا سب سے پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے سعودیہ کی مذہبی پولیس کے سربراہ شیخ عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ امور سعودیہ والوں کی نیکنامی کے لیے دھبہ ہیں اور ان کے آداب و رسوم کو داغدار کرتے ہیں ۔
سعودی عرب کے عسیر کے علاقے کے امیر کی اس علاقے کی امنیت کے بارے میں تشویش
سعودی عرب کے عسیر کے علاقے کے امیر فیصل بن خالد نے اپنے بیان میں کہ جو اس علاقے کی امنیت کے بارے میں اس کی تشویش کا عکاس ہے مطالبہ کیا کہ اس علاقے کی امنیت کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے ۔
سعودی عرب کے سماج میں محبت اور مہربانی کا مکمل فقدان
ایک خبر میں کہ جس سے سعودی عرب کے خشک اور پر تشدد سماج میں مہر و محبت کا گلا گھٹ جانے کا پتہ چلتا ہے روزنامہ عکاظ نے ، بے ضمیر بچے ، کی سرخی کے تحت لکھا ہے کہ ماوں کو بالکل بھلا دیا گیا ہے ۔
اس روزنامے نے ایک سعودی ماں کی رقت بار حالت کی رپورٹ نشر کرتے ہوئے کہ جس کے بچے نے اس کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے اور اس کی بے احترامی کرتا ہے لکھا ہے کہ مائیں دیکھ رہی ہیں کہ ان کے جگر کے ٹکڑوں نے ان کو بھلا دیا ہے اور اپنی رنگ رلیوں میں کھو گئے ہیں ۔ان کے بچوں کی قساوت نے کہ جنہوں نے ان کو چھوڑ دیا ہے ماوں کا جینا دشوار کر دیا ہے ۔
ام عبد اللہ ایک ماں ہے کہ جو کہتی ہے کہ اس کے پانچ بچے ہیں مگر سب نے اس کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور وہ مدد لینے کے لیے اپنے ہمسائے کے پاس جاتی ہے ۔وہ کہتی کہ اس کے بچوں نے اس کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور ہر گز اس کی خبر نہیں لیتے ۔
سعودی سماج کا ایک اور جنجالی معاملہ
عکاظ نے سعودی عرب کی ایک اور مشکل عاق والدین کے بارے بتایا ہے اور لکھا ہے کہ سعودی عدالت میں ماوں کے بچوں کو عاق کرنے کے گیارہ سو معاملے درج ہیں جب کہ عدالتوں میں ۹۸ فیصد ماوں نے عاق کے مسائل میں اپنے حق کو معاف کر دیا ہے ۔
اس روز نامے نے لکھا ہے کہ والدین کا عاق ہونے کی کئی دلیلیں اور اسباب ہیں جن میں سے خاندان کی بے ثباتی اور زوجین کی ایک دوسرے سے جدائی ، منشیات کا استعمال اور مالی اختلافات قابل ذکر ہیں ،لیکن ایسا مالدار گھرانوں میں بھی ہوتا ہے ۔
سعودی کارشناس نسرین ابو طاہر نے مطالبہ کیا ہے کہ عاق کرنے سے جو مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور برے نتائج سامنے آتے ہیں ان کے بارے میں تحقیق کی جائے اور اس مسئلے کی روک تھام کے لیے منصوبی بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے کہ : ہمارا معاشرہ ایک محتاط معاشرہ شمار ہوتا ہے اور ناموس کے درمیان عاق ہونے ،نکال دیے جانے ، گالی گلوچ کرنے اور ضرب و شتم کرنے جیسے مختلف مسائل موجود ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲