اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ شام سے روسی فوجوں کا انخلا غیر متوقع نہیں بلکہ پوری ہم آہنگی کے ساتھ انجام پایا ہے۔ بدھ کو آئی آر آئی بی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر علی شمخانی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کی فوجی مشاورت سے ان علاقوں میں شامی فوج کی پیشقدمی جاری رہے گی جہاں دہشت گرد گروہ عوام اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کا کہنا تھا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ صرف شامی عوام ہی کریں گے اور اس اہم معاملے کو نظرانداز کرکے پیش کی جانے والی ہر تجویز ماضی کی طرح ناکام رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ شامی حکومت کو کمزرو کرنا ، دراصل ایک امریکی صیہونی منصوبہ ہے جس کا مقصد خطے میں اسرائیل کے خلاف جاری تحریک مزاحمت کو نابود کرنا ہے۔ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے رکن نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ خطے کے بعض ممالک امریکی اور صیہونی منصوبے میں شریک ہیں اور اس کا شام میں جمہوریت کے قیام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ڈاکٹر علی شمخانی نےکہا کہ دہشت گردی خطے سے نکل کر یورپ پہنچ گئی ہے لیکن شام کے بارے میں ماضی کی غلط پالیسیوں کو ترک نہیں کیا جارہا ۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ خطے کی سلامتی کے دشمن، دہشت گردی کو مختلف خانوں میں تقسیم اور اس کے انسداد کے حوالے سے دہرے معیار کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردوں کو سیاسی جواز فراہم کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں خطے میں دہشت گردی کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور اس کے یورپ کی سلامتی کے لیے بھی انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
.......
/169