اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر مملکت حسن روحانی نے روسی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے شام میں جنگ بندی، جھڑپوں کے خاتمے اور انسان دوستانہ امداد کی ترسیل کے آغاز کو شامی عوام کے مفادات کے تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ صدر مملکت نے یہ بات زور دیکر کہی کہ جنگ جنگ بندی کو دہشت گردوں کے زور پکڑنے اور مالی اور ہتھیاروں کی امداد جمع کرنے کا سبب نہ بننے دیا جائے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے شام میں سیاسی عمل کے بارے میں ایران کے موقف کی وضاحت اور شامی عوام کی مدد کی خاطر تہران ماسکو تعاون اور صلاح و مشورے کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ روس کے موثر فضائی حملوں اور شامی فوج اور عوامی رضاکاروں کی جاں فشانی کے نتیجے میں دہشت گرد اور ان کے حامی، مذاکرات پر مجبور ہو گئے اور انہیں پتہ چل گیا کہ فوجی اقدامات کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہیں۔ صدر ایران نے شام میں مجوزہ جنگ بندی کے سمجھوتے میں پائے جانے والے ابہامات اور نقائص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تشویش کو دور کرنے کے لئے جنگ بندی معاہدے میں پائے جانے والے تمام نقائص اور ابہامات کو دور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی شام میں مجوزہ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران تعلقات باہمی اعتماد اور تعمیری سوچ کی بنیادوں پر استوار ہیں اور اسی وجہ سے تہران اور ماسکو، شام کے معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔
روس کے صدر نے مجوزہ جنگ بندی معاہدے میں پائے جانے والے نقائص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی اور سرحدوں کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کی رفت و آمد، اسلحے کی ترسیل اور لاجسٹک سپورٹ کا راستہ بند کیا جا سکے۔ روس کے صدر نے شامی عوام اور پناہ گزینوں تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ داعش، جبہۃ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ، یقینا جاری رہے گی۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور روس نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے شام میں ستائیس فروری سے جنگ بندی شروع کرانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ شام میں مختلف دہشت گرد گرہوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے بعض علاقوں میں پچھلے پانچ سال سے بدامنی کا سلسلہ جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲